ہفته, 29 آگست 2020 10:11



تحریر: ڈاکٹر سید مقیل حسین میاں
تعارف:
سید موصوف نے واقعہ کربلا پر طویل مرثیے لکھے ہیں جن میں ایک مرثیہ ایک سو تینتیس ابیات اور دوسرا دو سو تینتیس ابیات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے میدان کربلاء کے مختلف حالات،کیفیت شہادت امام مظلوم ؑ اورحضرت جبرئیلؑ کا خبرشہادت کو مدینہ میں حضور سرور کونینؐ اور مخدومہ کونین سلام علیھا کی بارگاہ میں لے آنا اور ارواح پنجتن پاکؑ کی کربلاء آمد کو احسن انداز میں قلم بند کیا ہے۔ سید میر انور شاہؒ نے اپنے پیر ومرشد امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کی شہادت پر دوسو تہتر ابیات پرمشتمل ایک  کلام ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ نے امام روؤف کے حالات و کرامات ، مدینہ چھوڑنے ، مشہد(ایران) آمد اور یہاں مامون عباسی کا امام کے برتاؤ اور پھر امام کی شہادت پر فرزند امام حضرت امام محمد تقی ؑ کا معجزہ کے ذریعے مدینہ سےمشہد آنا اور بابا کے صحابی خاص حضرت ابوصلتؒ کے ساتھ مل کر اپنے بابا علی ابن موسیٰ رضاؑ کی تجہیز وتکفین کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 

واقعۂ کربلا نے کائنات کی ہر شئے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور ہر زبان کے ادب نے کربلا کے موضوع سے فکری روشنی حاصل کی ہے۔ کربلا صرف ایک غم کا باب ہی نہیں بلکہ اسرارِ حیات اور کائنات کی معرفت سے بھر پور ایک بے مثال اخلاقی و تربیتی مخزن بھی ہے۔ کربلا ہمیں اطاعت پروردگار، حق شناسی، نفس کی معرفت، شرافتِ کردار، حق اور سچ کا ساتھ، صبروایثار اور شیطان ، طاغوت اور ظلم کے خلاف ثابت قدمی، حریت وآزادی، اور دیگر اعلی انسانی اقدار سکھاتی ہے۔ کربلا کی تعلیمات انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی تک سماج کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں۔   
تاریخ اسلامی میں عہد قدیم سے لیکر اب تک کے شعراء میں اگر مرثیہ کی مخصوص صنف سے ہٹ کر بھی نگاہ کی جائے تو ہرزبان و ادب کے شعراء نے کربلا کے دل خراش واقعے کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے اور اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ اِس میدان میں مسلمان شعراء کے علاوہ غیر مسلم شعراء کی تخلیقات بھی کربلائی استعارات اور افکار سے لبریز رہی ہیں اور یہ بات کربلا کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہر مذہب، عقیدے اور نظریے کے لوگ خود گواہی دیتے آرہے ہیں۔ شاعری میں کربلا کے موضوع کی شعوری ترکیب مرثیہ ، سلام ، نوحہ او ر رباعی میں ظہور کرتی ہے چونکہ ہمارا موضوع مرثیہ ہے اس لیے ہم صرف اسی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، پہلے مرثیے کے مفہوم کو ذکر کرتےہیں۔ 
مرثیہ لغتاً واصطلاحا:
  مرثیہ رثاء سے مُشتق ہے جس کا شعوری مفہوم ہے کہ کسی مرنے والے کی توصیف وتعزیت میں کچھ کہنا۔ جبکہ ادبی مقصدیت کے لحاظ سے صنفِ مرثیہ فقط ایک حرفِ تعزیت سے کہیں زیادہ مرنے والے کی شخصیت کے اخلاقی معیار کی مظہر ہوتی ہے۔ دیر پامرثیہ کسی دیر پا شخصیت کیلئے ہی کہا جا سکتا ہے اور اس طرح ایک ادبی مرثیہ تعزیت ،خراجِ تحسین اور اہداف کی نشاندہی کے اتصال سے جنم لیتا ہے۔  اس لئے موضوعِ مرثیہ شخصیّت کے متوسّلین ولواحقین کیلئے یہ صنف عدم فراموشی، شعوری بیداری اور تحریکِ عمل کا پیام بن کر سامنے آتی ہے۔ ایک با جوازمرثیہ حق شناسی کی حِس کو’’حیّ علیٰ الفلاح‘‘کی آواز دیتے رہنے کے مترادف ہے، کسی عادل اور حق پرورمظلوم کی مظلومیت پر رونے کا اہتمام فراہم کرنا سنّتِ انبیائے ما سلف رہا ہے اور پاکیزہ قلوب کیلئے تلاوتِ آیات جتنا اثر رکھتا ہے۔ ایسا رونا طہارتِ فکر کی علامت ہے اور ظلم کے خلاف مہذب ترین احتجاج ہے۔ نظریاتی انداز میں کہا گیا مرثیہ مظلوم کی صداقت پر مستقل ادبی و تاریخی قرارداد کا مقام رکھتا ہے۔ (۱)
تاہم اردو میں مرثیہ رفتہ رفتہ ایک اصطلاح کی شکل اختیار کر گیا اور یہ امام حسین علیہ السلام، کربلا کی تاریخ اور کربلا کے کرداروں سے مخصوص ہو کر رہ گیا۔ اس مقالے میں ہمارے پیش نظر مرثیہ سے یہی خاص صنف سخن ہے۔
مرثیہ کے اجزاء:
مرثیہ چونکہ واقعات کربلا پر مبنی ہے اس لئے اس میں واقعات کربلا کی تفصیل بیان ہوتی ہیں ۔ مثلاً جاں نثاران امام حسینؑ اور خانوادہ مولاحسینؑ کی سیر ت وشخصیت، کردار، جذبات، احساسات، عزیزواقارب سے رخصتی، میدان کار زار میں ان بے سروساماں عاشقان حسینؑ کی آمد، آلات حرب، جنگ کا منظر، گھوڑوں کی تیزی، تلواروں ونیزوں کی چمک دمک، فرات کے کناروں پر یزیدیوں کے پہرے، پیاسوں کی شہادت اور پھر ان کی زخم خوردہ لاشوں پر بین وبکا وغیرہ۔ ان واقعات و بیانات میں ایک منطقی ربط وتسلسل قائم رکھنے کی خاطر مرثیے کے لئے آٹھ اجزائے ترکیبی وضع کئے گئے۔ بنیادی طور پر ایک روایتی مرثیہ اپنی ترکیب میں مندرجہ ذیل اجزاء کا حامل ہوتاہے۔ تاہم جدید مرثیہ میں قدرے مختلف ترکیبی تجربات بھی سامنے لائے گئے ہیں۔
۱۔تمہید ۲۔ چہرہ ۳۔ سراپا ۴۔ رْخصت    ۵۔ آمد
۶۔ رَجَز ۷۔ جنگ ۸۔ شہادت      ۹۔ دعا  
مرثیے میں اجزائے ترکیبی کا یہ تعین جنہوں نے کیا تھا بعد میں ان سے بھی یہ پابندی نہ ہوسکی (۲)۔
تاریخِ ادب کے جائزہ سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سلام، مرثیہ ، نوحہ اور منقبت جیسی اصناف کی تجسیم و تخلیق ہی کربلا کے بغیر نا ممکن تھی ۔ یوں تو ہر ادب کی تمام تخلیقی اصناف کربلا کے ادراک سے لبریز نظر آتی ہیں لیکن کچھ شعراء کا کلام کربلا کے بغیر نامکمل ہے اور بعض نے تو کربلا کے واقعے سے متاثر ہوکر شاعری شروع کی، اُن میں سے ایک نام پشتو ادب کے گمنام ستارے اور ہمارے (اورکزئی،کُرم اور بنگش کے باسیوں) کے لیے بدرِ منیر سید میرانور شاہؒ کا ہے۔ آپ کا شمار سترھویں صدی کے عظیم صوفیاء، عرفاء اورشعراء میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے آپ تعلق رکھتے تھے، حضرت سید میرانورشاہؒ عالم ،فاضل ، سالک اور عارف کامل تھے۔ آپ نے اپنی کرشماتی شخصیت اور عرفانی کلام سے ظلم وجہالت کے اندھیروں کو چاک کیا اورعوام الناس کو امن ومحبت ، اخوت و رواداری کا درس دیا لیکن حالات کی ناقدردانی کی وجہ سے ان کی جامع انداز میں حالات زندگی نہیں ملتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا عرفانی کلام، تحریریں، کتابیں اور بہت سارا ذخیرہ علم ودانائی کے دشمنوں کے ہاتھ برباد ہوگیا ہے، اگرآج وہ کتابیں اور تحریریں شائع ہوتیں تو اہل د انش کے لیے مشعل راہ ہوتیں اور سید میر انورشاہؒ کانام پشتو زبان وادب کے دیگر عظیم سپوتوں میں شمارہوتا۔ 
سید میرانورشاہؒ کی رثائی شاعری:
سید میرانورشاہؒ کی شاعری مواعظ و نصائح ، مناقب ، مرثیہ ، تاریخ و ثقافت، اور وجد جذب کے ذخیرے سے مالا مال ہے۔ ایک شاعرکے جذبات جتنےقوی ہوں اور معنوی کیفیات جلا بخش دینے والی ہوں اُتنے ہی اس کے کلام کےاثرات ہوتے ہیں۔ اسی طرح جس شاعر میں قابلیت ، شرافت اور طہارت کامادہ جتنا زیادہ ہو اتنا ہی اس کا کلام پُر خلوص مطالب ،پاکیزہ خیالات اور بہترین و اعلیٰ جذبات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔سید موصوف کی شاعری کا شمار پشتوکی بہترین شاعری میں کیا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے اپنی شاعری میں فلسفے اور علم کے مختلف پہلوئوں کوبیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:

بے لہ حبہ د مولا کہ چوک ژڑا کا
د دیدن وٹ بہ ئے سوختہ اوخیو پہ تیل شی

(اگر کوئی محبت ومعرفت کے بغیر اللہ تعالی اور اس کے پاک حبیبؐ کے غم میں روتا اور فریاد کرتا ہے تو اس کے دیدار کی لَو جلے ہوئے تیل کی ہوگی ۔)

د صورت کعبہ بہ ھالہ شی آبادہ
کہ اسماعیل غوندے د عشق پہ تیغ بسمل شی
(صورت کا کعبہ’’قلب انسان‘‘اُس وقت آباد یعنی پاک وپاکیزہ اور روشن ہوجائے گا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح عشق کی تیغ کے ساتھ ذبح ہوجائے، ’’عشق الہی اس کے دل میں پیدا ہوجائے‘‘۔)(۳)
حضرت سید میرانورشاہؒ نے شاعری میں مذہبی اصنافِ سخن یعنی حمد ونعت، منقبت، سلام اور مرثیہ کو قدرِاول کی حیثیت دی۔ اس حوالے سے آپ کی شخصیت ممتاز ومنفرد ہے۔ آپ نے دیگر موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی۔ انھوں نے اپنے عہد کی تمام اچھائیوں اور بگڑے ہوئے حالات پر گہری نظررکھتے ہوئے شاعری کی اوراشعار کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرتے رہے۔ شاعری کے ذریعے محبت والفت ، اخلاق اور انسانی اقدار کا پیغام دیا اور معاشرے کے اندر شعور وآگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ حضرت سید میرانورشاہؒ کے سلاموں اور مرثیوں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک مرثیہ نگاری محض گریہ وزاری کا ہی نام نہیں بلکہ واقعہ کربلا سے حاصل کی جانے والی آگہی کو قلم وقرطاس کے ذریعے عوام الناس کے ذہنوں میں منتقل کرنا ہے۔آپ کے رثائی کلام میں وہ افکار بھی نمایاں ہیں جن کی بدولت وہ واقعۂ کربلا کو درسِ ہدایت ورہنمائی تصور کرتے ہوئے اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ بناتے ہیں۔ انھوں نے حضرت امام حسینؑ کی شہادت عظمی سے حق و باطل اور خیروشر کے مابین جو امتیاز دیکھا ہے اسے وہ کربلا کا ابدی پیغام سمجھتے ہیں۔ اسی پیغام سے اپنی اور دوسروں کے فکروآگہی کو جلا بخشتے تھے۔ ایک جگہ مولا حسینؑ سے اپنی عشق ومحبت کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں جو آپ پر سانخہ کربلا کے گہرے نقوش کی عکاسی کرتا ہے :
انورشاہ پہ تیغ شھید دے کہ باور کڑے
خوش خُرم دے کہ داخخ شی بے کفنہ
(یقین کرو کہ انورشاہ اگر بے کفن بھی دفن ہوجائے تو وہ تیغ کے ذریعےشہید ہے اس کا دل شاد اور شادماں ہے)
وقت کے ظالموں نے سید بزرگوار کے وفات کے تقریباً ساٹھ سال بعد ان کی قبر مبارک کو کھود کر سر کو تن سے جدا کیا اور چالیس دن تک مختلف گاؤں میں پھرایا (۴) ۔ سید موصوف سفرِعراق میں جب سر زمینِ کربلا پر پہنچے تو وہاں کی ایک رات کا منظر کچھ اس طرح اپنے الفاظ میں بیان کیا :
یوہ شپہ مے کربلا باندے گذ رشہ 
ما پہ سترگو رخکارہ د جنت درشہ
کربلا تہ کہ زہ عرش و ایم رختیاد
خوبیاولے پکے سبط دمصطفیٰ دے
کربلا مرتبہ او گورہ انورہ
د گنبذ قبہ ئے نوردے منورہ
(۵)
(ایک رات میرا کربلا پر گزر ہوا میں نے جنت کا در دیکھا یہ سچ ہے اگرمیں کربلا کو عرش کہوں کیونکہ اس میں نواسہء رسولؐ خوابیدہ ہیں، اے انور شاہ کربلا کے مرتبے کو دیکھ، گنبد کا قبہ نور سے منور ہے )۔ 
سید میرانورشاہؒ نے مرثیہ نگاری کے تناظر میں حضرت امام حسینؑ کی سیرت و کردار اور وہ اعلی منزلیں جو امام علیہ سلام نے میدان کربلا میں طے کی اور جو عنایات اللہ تعالی کی طرف سے ان پر کی گئی ان کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
شہادت د ستا قبول ما پہ درگاہ دے
د قدرت لاس مے ھمیش ستا پہ پناہ دے
آپؑ کی شہادت میری درگاہ میں قبول ہے دست قدرت ہمیشہ آپؑ کا محافظ ہے 
پنزہ چیزونہ مے عطا کڑو پہ تا با ندے
چے بے تا نہ عطا نہ وو پہ چا باندے
’’رب ذوالجلال‘‘ نے پانچ چیزیں آپ کو عطا کیں جو کہ کسی اور کو نہیں دی ہیں
یو خو دا چے امامان د ستا لہ اصلہ
خدائے عطا کڑو ھادیان د ستا لہ نسلہ
ایک تو یہ کہ آئمہ اطہارؑآپ کی ذریت سے ہوں گے یعنی اللہ تعالی نے دین ودنیا کے ہادی ورہبر آپ کی نسل سے قرار دئیے ۔
بل دعا قبولیدل ستا پہ زیارت
شفاعت حکم پہ ورزے د قیامت
دوسرا یہ کہ آپ کی زیارت پر دعا کا قبول ہونا اور تیسرا یہ کہ قیامت کے دن شفاعت کا حکم آپ کے ہاتھ پر ہوگا۔
سلورم د عمر طول ستا پہ زیارت کے
ھم شفا چے وی داخل ستا پہ تربت کے
چوتھی یہ کہ آپ کی زیارت کرنے سے عمر طولانی ہوگی یعنی جو آپ کی زیارت کے لیے روانہ ہو جائے اور جب تک واپس گھر نہ آئے یہ تمام عرصہ اس کی عمر میں شمار نہیں ہوگا۔ پانچویں آپ کی تربت میں شفا رکھی ہے جو بھی خاک مرقدِ منور مولاحسینؑ بیماری کے لیے استعمال کرے گا شفایاب ہوگا (۶)۔
سید میرانورشاہؒ غمِ امام حسینؑ کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ موجودات عالم میں کوئی بھی ان کے غم سے فارغ نہیں ہوگا:
لہ ھلالہ ئے اثر د مصیبت دے
مصیبت ئے پہ تمام عالم قسمت دے
ہلالِ محرم سے امام علیہ سلام کی مصیبت کا اثر ظاہر ہے اور ان کی مصیبت تمام دنیا پر منقسم ہے۔
خصوصاً دا مصیبت د مصطفیؐ دے
چہ اثر ئے پہ حضرت د کبریا دے
خاص طور پر یہ مصیبت حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ہے کہ جس کا اثر ذاتِ کبریا پر بھی ہے۔
موجودات بہ لہ دی غمہ فراغ نہ وی
چوک بہ وی چہ پہ دا غم ئے زڑہ داغ نہ وی
موجودتِ عالم مولا کے غم سے فارغ نہیں ہوں گے کون ہوگا جس کا دل اس پر رنجیدہ اور ملول نہ ہو (۷)۔
کچھ اسی طرح کا اظہار خیال فارسی کے عظیم مرثیہ خواں محتشم کاشی نے کیا ہے،کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسا شعر کہوں جس سے یہ ظاہرہو کہ امام حسینؑ کی شہادت پر ذاتِ باری تعالی رنجیدہ اور اداس ہوئی۔ چنانچہ وہ عجیب گومگو کی کیفیت میں تھے ایک یہ حقیقت کہ جس کی حالت میں تغیر وتبدل آجائے وہ خالق نہیں مخلوق ہیں،ملال پیدا ہونے سےحالت میں تغیر وتبدل آجاتا ہے یہ توحید کے منافی ہے۔ محتشم کاشی چھ ماہ تک مبہوت رہے کسی قسم کا شعر نہ کہہ سکے،چھ ماہ بعد کسی جوان نے خواب میں تسلی دی اور کہا ائے محتشم اللہ تعالی کہیں بھی نہیں سما سکتا مگر مومن کے قلب میں،ایک مومن بھی ایسا نہیں جو غمِ امام حسینؑ میں رنجیدہ نہ ہو تو آپ اس طرح نہ کہیں اور کہہ دیں :
گرچہ بریست ذات ذوالجلال از ملال
او در دل است وہیچ دلے نیست بے ملال
اللہ تعالی کی ذاتِ ذوالجلال ملال سے بری ہے اس کا مقام دل ہے اور کوئی دل بے ملال نہیں ہوتا (۸) ۔
اسی نقطے کو سید میرانورشاہؒ کے مرید خاص قنبر علی خان نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
پہ حضرت ذوالجلال ملال پیدا شہ
چے ھر کال د محرم ھلال ھویدا شہ
اللہ تبارک وتعالی کی ذات پر بھی ہرسال رنج والم پیدا ہوتا ہے جب محرم کا چاند آشکار ہوتا ہے 
دا دلیل د دی مذکور شاھد حال دے
مصطفیٰ ملال ملال د ذوالجلال دے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت محمد مصطفیؐ کا پُر ملال ہونا رب ذوالجلال کا پُر ملال ہونا ہے(۹) ۔
سید میرانورشاہؒ ایک شعر میں رقمطراز ہیں کہ میری پیدائش مجلس اور ماتم کی فضا ء اور گھرانے میں ہوئی ہے اور اس کے بغیر زندگی کا وہ لطف اور تسکین نہیں ہے:
مور لہ پلارہ زہ پیدا پہ دا ماتم یم
اسودہ خوش وخُرم پہ اخیو نم یم
میری پیدائش اسی مجلس و ماتم میں ہوئی ہے اور میری زندگی بھی ماتم میں گزرے گی مجلس حسینؑ میری زندگی کا حصہ ہے۔(۱۰)
سید موصوف فرماتے ہیں کہ غم ِ مولاحسینؑ میں جو آنسو بہاتا ہوں ان سے میرے دل کی طراوت ہے اور میرے لیے باعث تسکین اور نجات ہیں۔
سید میرانورشاہؒ امام حسینؑ کی شہادت کو دنیا میں قیامت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کے غم میں رونے کو اپنے لیے نور علیٰ نور سمجھتے ہیں،چنانچہ فرماتے ہیں:
چہ امام حسینؑ شھید پہ کربلا شہ
پہ دنیا کے دا قیامت گنڑہ حضور دے
جب حضرت امام حسینؑ کربلا میں شہید ہوگئے تو دنیا میں یہ قیامت کا ایک منظر تھا۔
دعصمت وطھارت میرمنے بند شوے
پہ آسمان زمکے عرش کرسی دا فتور دے
عصمت وطہارت کے مالک بیبیاں قیدی بن گئیں،آسمان وزمین اورعرش وکرسی پر یہ فتور ہے ۔
پہ امام زین العباد سختہ خواری وہ
خشک لبان پہ زڑہ زخمی پہ تن رنزور دے
حضرت امام زین العابدینؑ پر بہت زیادہ مصائب تھے، شدتِ غم کی وجہ نڈھال، خشک زبان اور بیماری کے عالم میں تھے۔
سکینہؑ بی بی دیدن د امام غواڑی
پہ خاطر د زھراؑ داغ دغہ مذکور دے
بی بی سکینہؑ اپنے بابا کے دیدار کو چاہ رہیں تھیں، حضرت زہراؑ کے دل پر جدائی کا یہ داغ رقم شدہ ہے۔
زڑہ مے تل آہ وفریاد کا لہ دی دردہ یَم 
د وینو جوش خروش کوی ناسور دے
سید بزرگوارکہتے ہیں کہ واقعہ کربلا کی وجہ سے جو درد مجھے ملا ہے میرا دل ہمیشہ اس پر آہ وزاری کرتا ہے، میرے خون کا سمندر جوش مارتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
سو ژوندون وی تل ژڑا کڑہ میرانورہ
دا ژڑا ستا وتہ نور اعلیٰ نور دے
اے انورشاہ جب تک زندگی ہو ہمیشہ غمِ حسینؑ پر رویا کرو یہ رونا تیرے لیے نور اعلیٰ نور ہے (۱۱) ۔
شہدائے کربلا کی پیاس کو دیکھ کر سید میرانورشاہؒ دل کی اتھا گہرایوں سے اظہار عقیدت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
تشنگان د کربلا بہ ئے سیراب کڑو
د فرات اوبہ کہ اوخی د انور وے
انورنے کربلا والوں کے غم میں اتنے آنسو بہائے ہیں کہ‘‘انور کے آنسوؤں کا دریائے فرات کربلا کے پیاسوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہورہتا۔ یعنی اپنی آنسوؤں سے ان کی پیاس بھجاتا (۱۲)۔
جس طرح تاریخ میں امام مظلوم پر گریہ وزاری کی فضلیت اور بہشت برین کے نصیب ہونے کے بارے میں احادیث اور روایات موجود ہیں ،جن میں سے ایک روایت حضرت امام محمد باقر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ : جو مومن ہمارے جد بزگوار حضرت امام حسینؑ کی مصیبت پر چشمِ پُر آب ہو اور ایک قطرہ آنسو کا رخسار پر رواں ہو خداوندے عالم اسے بہشت عنبر سرشت میں جگہ دیتا ہے۔(۱۳)  
اسی طرح کا مفہوم سید میرانورشاہؒ نے اپنےمرثیے میں بیان فرمایا ہے :
کہ پہ اوخیو د ماتم غسل ونہ کڑے
د جحیم د سرو لمبو علاج بہ سہ کڑے
اگر ماتم امام حسینؑ میں آنسو نہ بہائے جائیں تو جہنم کی آگ کا علاج کیسے کرو گے۔
کہ پہ مخ کے د گلریز وی د ژڑا
د لحد تیار بہ شی درتہ رنڑا
اگر آپ کے سامنے آنسوؤں کے ہار پڑے ہوں تو آپ کے لیے لحد کی تاریکی روشنی بن جائے گی،یعنی مولا حسینؑ کے غم میں رونے والا قبر کی تاریکی سے مأمون ہے۔
کہ باران پرے د ماتم د اوخیو نہ وی
طراوت بہ د جنت د گلو سہ وی
اگر مجلس امام حسینؑ کے اشکوں کی بارش نہ ہوں تو جنت کے پھولوں میں کیا تازگی ہوگی ۔ (۱۴)
شہدائے کربلا کے بے مثال قربانیوں کو بیان کرتے ہوئے ارشاد کررہیں:
ننگیالی د دین عباس قاسم اکبر وو
حُر غازی صفت حد زیات دے کہ مذکورہ
دین کے حمیت اور غیرت مند حضرت عباسؑ، حضرت قاسم ؑ اور حضرت علی اکبرؑ تھے ،حضرت حُر ابن زیاد ریاحی کی بھی شجاعت اور دلیری کی صفات بھی بہت زیادہ ہیں۔
شھیدان د کربلا اکثر سرخرو وو
ھمیشہ دائم بہ اوسی لہ سرورہ
شہدائے کربلا سارے سرخرو اور سربلند تھے وہ ہمیشہ خوشی اور سرور کے ساتھ رہیں گے۔
پہ جنتِ جاویدان بہ مشرف شی
د کوثر پیالے بہ سحی لہ انطھور ہ
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں چلے جائیں گے اور حوضِ کوثر سے پاکیزہ جام نوش کریں گے۔ (۱۵)
سید موصوف نے واقعہ کربلا پر طویل مرثیے لکھے ہیں جن میں ایک مرثیہ ایک سو تینتیس ابیات اور دوسرا دو سو تینتیس ابیات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے میدان کربلاء کے مختلف حالات،کیفیت شہادت امام مظلوم ؑ اورحضرت جبرئیلؑ کا خبرشہادت کو مدینہ میں حضور سرور کونینؐ اور مخدومہ کونین سلام علیھا کی بارگاہ میں لے آنا اور ارواح پنجتن پاکؑ کی کربلاء آمد کو احسن انداز میں قلم بند کیا ہے۔ سید میر انور شاہؒ نے اپنے پیر ومرشد امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کی شہادت پر دوسو تہتر ابیات پرمشتمل ایک  کلام ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ نے امام روؤف کے حالات و کرامات ، مدینہ چھوڑنے ، مشہد(ایران) آمد اور یہاں مامون عباسی کا امام کے برتاؤ اور پھر امام کی شہادت پر فرزند امام حضرت امام محمد تقی ؑ کا معجزہ کے ذریعے مدینہ سےمشہد آنا اور بابا کے صحابی خاص حضرت ابوصلتؒ کے ساتھ مل کر اپنے بابا علی ابن موسیٰ رضاؑ کی تجہیز وتکفین کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 
سید موصوف نے مرثیہ کے ذریعے مولا امام حسین ؑ پر گریہ کرنے اور اس کی حفاظت کا درس دیا ہے اور ہمیں بتا یا ہے کہ گریہ کردار آل محمدؐ ہے ۔ روزِ عاشور جس طرح امام رضاؑ کا معمول تھا کہ عمامہ نہ پہنتے،گریبان  چاک کرتے اور نعلین اتار دیتے تھے اور یہ جملہ ارشاد فرماتے کہ اگر کبھی کسی بات پر رونا آجائے تو پہلے میرے مظلوم جد امام حسین ؑ گریہ کرنا۔امام نے ایک تہذیب دی اور ایک اصول وطریقہ بتایا ہے جس پر امام ہشتم کے مرید سید میرانور شاہ بھی عمل پیرا تھے اور ان کی اس حالت کو سید موصوف کے ایک مرید محترم محمدیار نے ایک بیت میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
صبا ورز د عاشورا دے
انور بہ راشی ارت گریوان پورتہ لاسونہ
کل عاشورا کا دن ہے سید انور شاہ کھلے ہوئے گریبان اور چڑھی ہوئی آستینوں کے ساتھ آ جائیں گے (۱۶)
یہ چند نمونے بطور مثال پیش کیے اگرچہ سید موصوف کا کلام بہت زیادہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید الشہداء حضرت امام حسینؑ کی شہادت نے ان کی زندگی کے ہر فعل کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ جیسا کہ ایک مرثیے کے اختتام پر رقمطراز ہیں:
کربلا ارشاد پہ ما شوے رختیا دے
چے حاصلہ مے لہ ستا نہ مدعا دے
مجھے یقینا کربلا کی ہدایت حقیقتاً میسر آگئی ہے، اے میرے آقا میرے مولا آپ ہی سے میری مراد اور آرزو پوری ہے۔
پہ یقین د زڑہ زہ دا دوستی لرمہ
خاتمہ بہ ھم لہ زانہ سرہ وڑمہ
میں یقین قلب کے ساتھ کربلا والوں کا محب ہوں میری محبت اُ ن کے ساتھ ہے اور ان کی یہ محبت میرے ساتھ جائے گی ۔ یعنی میری زندگی کا اختتام مولا حسین ؑ کی محبت پر ہوگا اور اسی محبت ومؤدت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں جاؤں گا ۔ (۱۷)
سید موصوف کی مقدس صحبت اور توجہ کے باعث بہت سے باکمال مرثیہ گو،قصیدہ گو اور غزل گو شاعر پیدا ہوئے جنھوں نے ہرفن سخن میں امام حسینؑ کے غم کو بیان کیا جن میں سے قنبرعلی خان، ملا نظام الدین، محمدیار،ھوس کربلائی،اورآپ کی اولاد میں سے سید محسن ، سید عباس  کے علاوہ سید عبداللہ شاہ اور سید جعفر حسین قابل ذکر ہیں۔ اللہ تبارک وتعالی ہمیں صحیح معنوں میں اسلام ِناب محمدیؐ پر کاربند رہنے اور سیرت و افکار ِ سید میرانور شاہ ؒ کی خدمت کامزید مواقع عطا فرمائے۔ 

 

حوالہ جات
۱۔ http://www.urdusukhan.com 
۲۔ http://www.jahan-e-urdu.com 
۳۔ صحیفہ انوریہ،میرانورشاہ، تدوین،انوری،سید حسین، ترجمہ، سید مقیل حسین، ڈاکٹر،عدن پرنٹر لاہور، ط:۲،۲۰۱۳ء، بمطابق صفر ۱۴۳۲ھـ ،ص: ۲۱۴۔
۴۔ صحیفہ انوریہ، المصدر نفسہ ، ص: ۱۷۔
۵۔ صحیفہ انوریہ، قلمی نسخہ مرتب کردہ انوری، سید حسین ، ص : ۱۱۔
۶۔ صحیفہ انوریہ، المصدر سابق ، ص:۴۴۰۔
۷۔ صحیفہ انوریہ، المصدر سابق ، ص: ۴۳۰۔
۸۔ صحیفہ انوریہ، قلمی نسخہ مرتب کردہ انوری، سید حسین ، ص :۱۴۰۔
۹۔ صحیفہ انوریہ، المصدر نفسہ ، ص:۱۴۱۔
۱۰۔ صحیفہ انوریہ،المصدر السابق ،ص:۴۰۵۔
۱۱۔ صحیفہ انوریہ،ایضاً ،ص:۴۸۸۔
۱۲۔ صحیفہ انوریہ،ایضاً ، ص:۴۹۴۔
۱۳۔ سفینۃ ابکاء ،مطبع یوسفی نسبت روڈ لاہور،ص:۱۴۷ 
۱۴۔ صحیفہ انوریہ، المصدر سابق ، ص:۴۳۳۔
۱۵۔ صحیفہ انوریہ،ایضاً ، ص:۴۹۷، ۴۹۹۔
۱۶۔ صحیفہ انوریہ، ایضاً ، ص:۱۲۔
۱۷۔ صحیفہ انوریہ،ایضاً ، ص:۴۲۹۔

 
* * * * *
Read 116 times Last modified on ہفته, 29 آگست 2020 10:19

تازہ مقالے