ہفته, 29 آگست 2020 09:58



تحریر: سید حیدرنقوی
حضرت امام مہدیؑ کا وجود:
نجات دھندہ کا تصور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں میں موجود ہے۔یہ تصور اسلام سے قبل کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ اسلامی متون میںیہ تصور اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ اور اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث و روایات کی وجہ سے یہ تصور زیادہ واضح و روشن ہے۔ مسلمان اس نجات دہندہ کو  امام مہدیؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ مسلمانوں امام مہدیؑ کے بارے میں جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے کہ وہ بعض اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ امام مہدی علیہ السلام کاامام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونا ہے جبکہ کئی اہل سنت علماء اور مورخین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مہدیؑ اولاد امام حسین علیہ السلام میں سے ہیں اور وہ ان کی نویں نسل سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔

امام مہدیؑ ، امام حسن ؑ کی نسل سے:
اہل سنت کے مابین یہ مسئلہ ان احادیث کی وجہ سے اختلافی ہوا جہاں امام مہدیؑ کو امام حسنؑ کی نسل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی ایک حدیث بطور مثال  قارئین کے پیش خدمت ہے: "قال ابو داود: حدثت عن هارون بن المغيرة، قال: حدثنا عمرو بن ابي قيس، عن شعيب بن خالد، عن ابي إسحاق، قال: قال علي رضي الله عنه: ونظر إلى ابنه الحسن، فقال: إن ابني هذا سيد كما سماه النبي صلى الله عليه وسلم و سيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيكم يشبهه في الخلق ولا يشبهه في الخلق، ثم ذكر قصة يملا الارض عدلا"۔ (سنن أبی داود، حدیث ۴۲۹۰ ) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا: یہ میرا بیٹا سردار ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا، اور سیرت میں ان کے مشابہ ہو گا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہو گا، پھر انہوں نے ”سيملأ الأرض عدلاً“ کا واقعہ ذکر کیا۔ (تخریج الحدیث: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: 10253، 10309) (ضعیف)۔

قال الشيخ الألباني: (ضعيف) قال الشيخ زبير علی زئی: إسنادہ ضعيف أبو داود لم يدرک ھارون، فالأول منقطع و أبو  إسحاق عنعن (تقدم:162) ولم يسمعه من علي رضي الله عنه، والثاني فيه أبو الحسن الكوفي و هلال بن عمرو مجهولان۔ (تق:8051،7345)۔ اس حدیث کو شیخ الالبانی اور شیخ زبیر علی زئی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی حدیث کو منبع بنا کر دیگر محققین اور مورخین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے جیسے کہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "العرف الوردی فی اخبار المہدی" نے بھی نقل ہے۔ جب حدیث ہی کو ضعیف قرار دیا جارہا ہے تو بہتر نہیں کہ جو احادیث معتبر السند ہیں کو بیان کیا جائے۔ اگر اس طرح کی دیگر احادیث و روایات کو بھی دیکھا جائے تو یقیناً ان میں بھی کوئی اسی طرح کے مسائل موجود ہوں گے۔ اگرچہ مقالہ میں ہمارا مقصد اس طرح کی احادیث کو نقل کرکے ان کا ناقدانہ جائزہ لینا نہیں ہے مگر ایک روایت کو یہاں بیان کرنا اس لیے ضروری سمجھا تاکہ اس حدیث میں بیان کرتے ہوئے دوسرے پہلو کی جانب متوجہ کیا جاسکے۔  اسی طرح کی حدیث امام علی ؑ اور نبی پاکﷺ سے اہل تشیع کے ہاں ذکر ہوئی ہیں ،جہاں پر امام حسنؑ کی جگہ امام حسینؑ کا نام لیا گیا ہے۔ ایک اور نقطہ بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ ایک حدیث جو ہلالی نے حضرت رسول اکرم ﷺ سے بیان ہے کہ وہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرماتے ہیں: اے فاطمہؑ! جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا۔ اس اُمت کے مہدیؑ ان دونوں (حسن و حسین یعنی حسنین علیہما السلام) میں سے ہیں۔

وضاحت حدیث:
حضرت امام مہدی ؑ، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کی نسل سے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ حضرت امام محمد باقرؑ کی عظیم المرتبت والدہ اُم عبد اللہ جناب فاطمہؑ، حضرت امام حسنؑ کی صاحبزادی ہیں۔ اس بناء پر حضرت امام محمد باقرؑ سے حضرت امام مہدیؑ تک تمام آئمہ باپ کی طرف سے حسینی اور ماں کی طرف سے حسنی ہیں۔ جیسا کہ ملا علی القاری لکھتے ہیں: "اور اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے؟ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دونوں کی نسبت جمع کیے ہوئے ہوں گے۔۔۔" (مرقاۃ المفاتیح: 10/174، رشیدیہ)۔ یہاں پر ہم ان اہل سنت کے علماء کرام، فقھاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کریں گے جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ اس مختصر سے مضمون میں ان میں سے بعض مشہور ترین علمائے اہل سنت کے اقتباسات ان کے اسمائے گرامی اور ان کے سال وفات کے ہمراہ قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:

۱۔ ابو الحسن علی بن حسین بن علی مسعودی الشافعی (متوفی 346 ہجری) :
اپنی معتبر کتاب مروج الذہب میں حضرت مہدی علیہ السلام کی ولادت کی وضاحت کی ہے۔ ابو محمد حسن ابن علی ۔ ۔ ۔ سنہ ۲۶۰ ہجری میں معتمد عباسی کے خلافت کے دور میں رحلت فرما گئے۔ آپ حضرت مہدیؑ منتظر کے والد بزرگوار ہیں۔ جو اہل بیتؑ کے بارہویں امام ہیں۔ (مروج الذہب ج ۴، ص۱۶۰)۔

۲۔ حافظ ابوالقاسم علی بن ابی محمد الحسن بن ہبتہ اللہ (ابن عساکر) (متوفی 571 ہجری):
اولادِ امام حسین رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک مہدی بن کر ظاہر ہوگا۔ (ماہنامہ محدث، ج1، شمارہ۱۱، مدیر: حافظ عبد الرحمٰن مدنی)

۳۔ شیخ محی الدین ابن عربیؒ (متوفی 638 ہجری):
جان لو کہ مہدی کا نکلنا حتمی اور ضروری ہے اور وہ اسی وقت خروج کریںگے جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی وہ اسکو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔۔۔وہ پیغمبرؐ کی عترت اور اولاد فاطمہؑ میں سے ہیں، ان کے دادا حسینؑ ابن علیؑ ابن ابی طالبؑ اور والد حسن عسکریؑ ابن امام علی نقیؑ ہیں۔۔۔وہ رسولؐ کے ہمنام ہیں مسلمان ان کے ہاتھوں پر رکن و مقام کے درمیان بیعت کریں گے۔ (الصوفی المشتھر بالشیخ الاکبر محی الدین ابن عربی محمد بن علی الحاتمی، الفتوحات المکیہ، باب ۳۶۶، فی معرفۃ منزل وزراء المھدی، ج۳، ص ۳۲۷)۔

۴۔ کمال الدین محمد بن طلحہ الشافعی (متوفی 652 ہجری):
"امام مہدی، امام حسن عسکری کے فرزند ہیں، سامرہ میں پیدا ہوئے۔ کنیت ابوالقاسم اور لقب حجت، خلف صالح اور بقولے منتظر ہے۔ وہ اس وقت بقید حیات ہیں اور پردہ غیبت میں ہیں"۔ (مطالب السوول فی مناقب آل الرسول، باب امام مہدی، ج۲، ص۱۵۲ و۱۵۳، باب۱۲)۔

۵۔ سبط بن الجوزی حنفی (متوفی 654 ہجری):
اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں ایک فصل امام مہدی علیہ السلام اور ان کی سوانح حیات سے مخصوص کیا ہے: "امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزندوں میں سے ایک امام محمدؑ ہیں۔ محمد ابن حسن ابن علی ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو القاسم ہے۔ یہ وہی خلف حجت، صاحب الزمان، قائم، منتظر اور آئمہ سے آخری فرد ہیں۔ بعض لوگوں نے آپ کے دو نام ذکر کئے ہیں: ایک محمد اور دوسرا ابوالقاسم۔ کہا جاتا ہے آپ کی والدہ ماجدہ کنیز تھیں جن کا نام صقیل تھا"۔ (تذکرۃ الخواص، ص۳۶۳۔۳۶۴)۔

۶۔ حافظ محمد ابن یو سف علامہ گنجی شافعی (متوفی658 ہجری):
"چاہے دنیا کا ایک دن بھی باقی ہو، اللہ تعالٰی ایک مرد کو مبعوث کرے گا، جس کا نام میرا نام ہوگا، جس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا اور جس کی کنیت ابو عبداللہ ہوگی۔ لوگ اس کی رکن اور مقام کے مابین بیعت کریں گے۔ اللہ تعالٰی اس کے ذریعے سے دین کو اس کے اصل مقام کی طرف پلٹائے گا، اسے فتوحات عطا کرے گا اور زمین پر کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا، جو لا الہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرے گا۔ اس موقع پر حضرت سلمان (فارسی) کھڑے ہوگئے اور عرض کی یارسول اللہ! وہ آپﷺ کے کس بیٹے کی اولاد میں سے ہوگا؟ آپؐ نے امام حسین پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا کہ میرے اس بیٹے کی اولاد میں سے"۔ (۸) (البیان فی اخبار صاحب الزمان، ص 96، حدیث 42) اورعلامہ مزید فرماتے ہیں: "امام ابو محمد حسن عسکری نے ایک اولاد چھوڑی وہی امام منتظر ہیں"۔ (کفایۃالطالب، ص۳۱۲)۔

۷۔ شیخ ابوالحسن شاذلی (متوفی 656 ہجری):
شعرانی، پینتالیسویں بحث میں لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالحسن شاذلی کہتے ہیں کہ:
"امام مہدی علیہ السلام موجود ہیں اور اپنے والد امام حسن عسکری علیہ السلام کے قائم مقام ہیں۔۔۔اگرچہ آپؑ عوام کی نظروں میں پوشیدہ اور خواص کی نگاہوں کے سامنے ہیں، لہٰذا بارہ اماموں میں عصمت منحصر ہے"۔ (شعرانی، البواقیت و الجواہر، بحث ۶۵ فی بیان ان جمیع اشتراط الساعۃ، ج۲، ص۱۴۲)۔

۸۔ علامہ شمس الدین قاضی ابن خلکان شافعی (متوفی 681 ہجری):
"ابوالقاسم محمد ابن حسن عسکری ابن علی ابن محمد جواد بارہ امامی شیعوں کے نزدیک بارہویں امام اور حجت ہیں انکی ولادت جمعہ 15شعبان 255 ہجری کو ہوئی، پدر بزرگوار کی شہادت کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی"۔ (وفیات الاعیان، ج۴، ص ۱۷۶)۔

۹۔ صدرالدین ابراہیم بن محمد بن مؤید جُوینی شافعی (متوفی 722 ہجری):
اپنی حدیث کی کتاب کے ۳۱ویں باب میں نقل کیا ہے کہ: "حضرت مہدی (علیہ السلام) کی ولادت پر صریح دلیلیں موجود ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے بعد تمام اوصیاء اور آئمہ کے ناموں کو بیان کیا ہے اور آخر میں فرمایا ہے: "و انّ الثانى عشر من ولدى یغیب... فحینئذ یأذن الله تعالى له بالخروج..." یقیناً میرا بارہواں فرزند پردہ غیبت میں جائے گا، یہاں تک کہ خداوند عالم اس کو خروج اور قیام کا حکم دے گا"۔ (فرائد السمطین، ج 2، ص 132)۔

۱۰۔ الامام الحافظ عماد الدین أبو الفداء إسماعيل بن كثير القرشی الدمشقی (متوفی 732 ہجری):
عماد الدین ابو الفداء تاریخ کی مشہور کتاب المختصر فی اخبار البشر میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی سوانح حیات میں لکھتے ہیں: "امام حسن عسکری کی ولادت سنہ ۲۳۰ ہجری اور وفات سنہ ۲۶۰ ہجری شہر سامرہ میں ہوئی۔ اور آپ اپنے والد علی الزکی ( امام ہادی علیہ السلام ) کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آپؑ امام محمد مہدیؑ منتظر کے والد ہیں"۔

۱۱۔ امام شمس الدین حافظ الذہبی (متوفی 748ہجری):
"ظہور مہدی کے لیے جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے وہ صحیح ہیں۔ امام احمد ترمذی اور ابو داؤد وغیرہ نے نقل کیا ہے ان میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت اُم سلمہؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت علیؓ کی روایتیں ہیں"۔ (مختصر منہاج السنۃ ،ص۵۳۴) ایک اور جگہ لکھتے ہیں: "محمد ابن حسن عسکری ابن علی نقی ابن محمد الجواد ابن علی رضا ابن موسی کاظم ابن جعفر صادق علوی حسینی ابوالقاسم جنکو رافضہ نے خلف حجت، مہدی، منتظر اور صاحب الزمان کا لقب دیا ہے اور وہ بارہویں امام ہیں"۔ (العبر فی خبر من غبر،ج۱،ص۳۸۱)۔

۱۲۔ محمد بن محمد بن محمود البخاری معروف بہ خواجہ پارسا حنفی نقشبندی (متوفی 822 ہجری):
رشید الدین دہلوی اپنی کتاب ایضاح لطافۃ المقال میں خواجہ پارساؒ
(خلیفہ سالار نقشبندیہ بہاء الدین نقشبندؒ ) کا امام مہدیؑ سے متعلق موقف ان کی کتاب فصل الخطاب سے یوں بیان کرتے ہیں کہ خواجہ پارساؒ فرماتے ہیں کہ حدیث مقدسہ میں ہے، عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرمؐ نے فرمایا: "اگر دنیا میں سے صرف ایک دن ہی باقی بچا تو اللہ تعالٰی اس دن کو دراز فرمائے گا حتیٰ کہ میرے اہل بیتؑ میں سے ایک شخص کو بھیجے گا وہ میرا ہم نام ہوگا، ان کے والد میرے والد کے ہم نام ہوں گے، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔ (سنن ابی داؤد، کتاب المھدی، رقم الحدیث: 4282، ج 4، ص 106)۔ اس طرح بیان کیا ہے: آئمہ اہلبیت اطہار میں سے ابو محمد حسن عسکری ہیں۔۔۔انکی اولاد میں سے صرف ابوالقاسم محمد منتظرالمعروف قائم، حجت، مہدی، صاحب الزمان اور شیعوں کے نزدیک بارہ اماموں میں سے آخری ہیں۔ ولادت 15 شعبان 255ھ کو ہوئی"۔ (المرقاۃ فی شرح المشکاۃ، ج۱۰ص۳۳۶و۳۳۷)۔

۱۳۔ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852 ہجری):
ابن حجر عسقلانی، جو کہ علماء اہل سنت کی تاریخ میں علم رجال، درایہ، حدیث و تاریخ اور نسب شناشی میں بزرگ شخصیتوں میں سے ایک تھے۔ وہ اپنی کتاب، لسان المیزان میں جعفر ابن علی بن محمد کےحالات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جعفر ابن علی ابن محمد کا تعارف امام مہدی کے بھائی کے طور پر کراتے ہیں اور خود  امام حسن عسکری علیہ السلام کا تعارف امام مہدی علیہ السلام کے والد کے طور پر کراتے ہیں: "جعفر ابن علی ابن محمد ابن علی ابن محمد ابن علی الرضا ابن موسی ابن جعفر صادق ابن محمد باقر ابن علی زین العابدین ابن حسین ابن علی ابن ابو طالب الحسینی جو کہ امام حسن ؑکے بھائی ہیں کہ جنہیں " عسکری"  کہا جاتا ہے جو اھل بیت ؑکے گیارہویں امام ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کے والد ماجد بھی ہیں اور (امام مہدی علیہ السلام نے بحکم خدا غیبت اختیار کی تھی"۔ (لسان الميزان، جلد 2، صفحہ 460)۔

۱۴۔ محمد بن احمد مالکی (ابن صباغ) (متوفی 855 ہجری):
"ابو القاسم محمد حجت، حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ وہ شہر سامرا میں 15شعبان 255ھ کو پیدا ہوئے۔ (کتاب الفصول المہمہ فی معرفۃ احوال الائمہ، باب :۱۲) اور مزید لکھتا ہے کہ "وہ بارہویں امام ہیں اور ذکر تاریخ ولادت اور دلائل امامت اور نیز ان کے بارے میں بعض روایات، انکی غیبت اور حکومت کی مدت، انکی کنیت اور نسب وغیرہ سب کا ذکر کیا ہے اور چند روایات کو ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے:
ابو القاسم محمّد الحجّہ بن الحسن الخالص شب نیمہ شعبان سن 255 ہجری سامراء میں دنیا میں آئے اور والد و والدہ کی طرف سے نسب: وہ ابو القاسم محمّد الحجہ ابن حسن خالص ابن علی ہادی . . . ابن علی ابن ابی طالب صلوات اللَّہ عليہم اجمعين ہیں اور انکی والدہ ایک کنیز تھی کہ جن کا نام نرجس تھا، انکی کنیت ابو القاسم اور لقب حجت مہدی، خلف صالح، قائم، منتظَر، صاحب الزّمان اور مشہور ترين لقب مہدی ہے، اور حضرت مہدی کے بارے میں متعدد روایات کو نقل کرنے کے بعد آیت: "لِيُظْھِرَهُ عَلَي الدّينِ كُلِّه" (سورہ توبہ ، آيت۳۳) کی طرف اشارہ اور پھر آيت: "هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَ دِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه" (سورہ فتح، آيت۲۸ و سورہ صفّ، آيت ۹) کی طرف اشارہ کیا ہے۔

۱۵۔ شیخ نور الدین علامہ عبدالرحمان جامی حنفی (متوفی 898 ہجری):
"امام مہدیؑ سامرہ میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کی ولادت پوشیدہ رکھی گئی ہے وہ امام حسن عسکریؑ کی موجودگی میں غائب ہو گئے ہیں۔ "الذی یملأ الارض عدلًا و قسطًا ۔۔۔" وہ ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے"۔ (کتاب: شواھد النبوۃ، ص۴۰۴۔ ۴۰۸، مولف: علامہ عبدالرحمٰن جامی حنفی)۔

۱۶۔ شمس الدین أبو عبد الله محمد بن علی بن محمد بن خمارویہ بن طولون (اہل دمشق، متوفی 953 ہجری):
اپنی کتاب «الائمۃ الاثنا عشر» میں بارہویں امام کے بارے میں ایسے لکھا ہے: "و ثاني عشر هم ابنه (يعني ابن الحسن العسكري) محمّد بن الحسن و هو ابوالقاسم محمّد بن الحسن بن عليّ الهادي ابن محمّد الجواد ابن . . . عليّ بن ابي طالب رضي اللَّه عنهم" اور انہیں وہ مہدی قرار دیتا ہے، پھر ایک شعر کو نقل کرتا ہے کہ جس میں بارہ آئمہ کے اسماء ترتیب سے ذکر ہوئے ہیں۔

۱۷۔ شیخ حسن عراقی (متوفی 973 سے قبل):
شیخ حسن عراقی کا شمار نہ صرف علماء میں ہوتا ہے بلکہ وہ سیر و سلوک کے بھی بلند درجہ پر فائز تھے۔ شیخ صاحب نہ صرف امام مہدیؑ کی ولادت یا انؑ کا امام حسینؑ کی اولاد سے ہونے کا ذکر کرتے ہیں بلکہ شیخ حسن عراقی کی امامؑ سے ملاقات کا تفصیلی واقعہ شیخ عبد الوہاب شعرانی نے اپنی کتاب لواقح الانوار (القدسیۃ فی مناقب العلماء و الصوفیۃ) بیان کیا ہے۔

۱۸۔ شیخ عارف عبدالوہاب شعرانیؒ حنفی (متوفی973 ہجری):
امام مہدیؑ، امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں وہ 15شعبان 255ھ کو دنیا میں آئے اور آج تک زندہ و باقی ہیں۔ اور اب کہ جب سن 958 ہجری ہے، اس حساب سے ان کی عمر 706 سال ہو چکی ہے۔ رسول اکرمﷺ سے ہم تک پہنچنے والی روایات کے مطابق جب وہ ظہور فرمائیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے اور آپؑ سے ملاقات کریں گے۔ تمام علامتیں جیسے ظہور مہدیؑ، خروج دجال، نزول عیسیٰؑ، خروج دابہ، سورج کا مغرب سے نکلنا، قرآن کا اٹھ جانا، یاجوج کا کھل جانا، سب حق ہیں۔ (الیواقیت والجواہر، ج2، ص127، الیواقیت، والجواھر، المبحث الخامس و الستون فی بیان جمیع اشراط الساعۃ، ج3، ص 145-142)۔

۱۹۔ احمد ابن حجر ہیثمی شافعی (متوفی974 ہجری):
درست قول یہ ہے کہ امام مہدی کا خروج حضرت عیسیٰ کے ظہور سے پہلے ہوگا۔ امام مہدی کے ظہور کی روایات متواتر اور مستفیض ہیں کہ آپ اہل بیت پیغمبر میں سے ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور حضرت عیسیٰ آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اگر امام مہدی کا انکار سنت کے انکار کے لیے ہوتو اس کے لیے کفر و ارتداد کا حکم جاری کیا جائے گا اور اس کے انکار کرنے والے کو قتل کیا جائے گا اور حسن عسکریؑ کی سوائے ابوالقاسم محمد حجت کے کوئی اور اولاد نہیں تھی، والد کے انتقال کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی لیکن خداوند عالم نے اسی پانچ سال میں انہیں علم و حکمت کی عطا کی اور انکو قائم منتظر کہا جاتا ہے۔ (صواعق المحرقہ،ص۲۰۸)۔

ایک اور جگہ فرماتے ہیں: "ابو محمد الحسن الخالص جنہیں ابن فلکان نے عسکری کہا ہے 232 ہجری کو پیدا ہوئے ۔۔۔سرمن رای میں وفات پائی اور اپنے باپ اور چچا کے پہلو میں دفن ہوئے، آپ کی عمر ا ٹھائیس سال تھی اور کہا جاتا ہے کہ آپ کو بھی زہر دیا گیا تھا آپ کا فقط ایک بیٹا تھا ابوالقاسم محمد بن حج اور والد کی وفات کی وقت اس کی عمر پانچ برس تھی لیکن اسی عمر میں اللہ تعالٰی نے اسے حکمت عطا کر رکھی تھی اور اسے قائم منتظر کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مدینہ میں غائب ہوئے اور نہیں معلوم کہاں گئے۔ (الاتحاف بحب الاشراف۶۸)۔

۲۰۔ احمد بن یوسف ابوالعباس قرمانی حنفی (1019ھ):
اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: محمد، حجت خلف صالح کی عمر ان کے والد کی وفات کے وقت پانچ سال تھی، خداوند عالم نے ان کو اس عمر میں حکمت کی تعلیم دی، جس طرح بچپنے میں حضرت یحیٰی (علیہ السلام) کو حکمت کی تعلیم دی تھی۔ علماء کا اتفاق ہے کہ مہدی (امام حسن عسکری کے فرزند) ہی آخرالزمان کے قائم ہیں۔ ( اخبار الدول و آثار الاول، ج ۱، ص ۳۵۳)۔

۲۱۔ علامہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلویؒ (متوفی1052ہجری):
امام مہدیؑ 15 شعبان سنہ 255 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں۔ امام حسن عسکریؑ نے ان کے کان میں اذان و اقامت کہی ہے اور تھوڑا عرصہ کے بعد آپؑ نے فرمایا کہ وہ اس مالک کے سپرد ہو گئے جن کے پاس حضرت موسیٰ بچپنے میں تھے۔ (مناقب الآئمہ، مولف: علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ، اس کتاب کو احوال آئمہ اثنا عشر اور فضائل آئمہ اثنا عشرکا نام بھی دیا گیا ہے۔)

۲۲۔ مصری عالم الشیخ عبد اللہ بن محمد بن عامر شبراوی شافعی (متوفی 1171ہجری):
امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند امام محمد الحجۃ ۔۔۔ 15شعبان 255ھ کی رات میں اپنے والد کی وفات سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئے۔ آپؑ کے والد نے آپؑ کی ولادت کو پوشیدہ رکھا اور وقت کی سختیوں اور خلفاء وقت کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے پوشیدہ رکھنے کا حکم اپنے ساتھیوں کو بھی دیا کیونکہ اس وقت خلفاء ہاشمیوں کو تلاش کررہے تھے اور ان کو قید و قتل کررہے تھے اور ان کو سولی دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ وہ بارہ آئمہ کی ایسے تعریف کرتا ہے: اس ہاشمی سلسلے، پاک نسل نبوی اور اولاد علوی، کہ جو 12 امام ہیں، کے نور نے سب کو منور کیا ہے، ان کے اعلٰی مناقب اور صفات اور ان کا حسب و نسب نبوت محمدیؐ میں موجود ہے، وہ محمد ابن الحسن خالص ابن علی ہادی . . . ابن امام حسين برادر امام حسن ابن شير غالب علی ابن ابی طالب ہیں۔ (اتحاف بحب الاشراف (شیخ عبد اللہ شبراوی شافعی): ۶۸)۔

۲۳۔ ترک عالم قاضی بہلول بہجت آفندی (متوفی 1174 ہجری):
بارہویں امام کی ولادت پندرہ شعبان 255 ہجری کو ہوئی؛ ماںکا نام نرجس ہے۔ انکے لئے دو غیبتیں ہیں ایک صغریٰ اور دوسری کبریٰ پھر انکے باقی رہنے کی تصریح کی ہے۔ جب بھی خداوند عالم انکو اجازت دے گا وہ ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں گے۔ (المحاکمۃ فی تاریخ آل محمد،ص۲۴۶)۔

۲۴۔ شيخ سلیمان ابن ابراہيم قندوزی حنفی (متوفی 1294 ہجری):
کتاب "ينابيع المودّۃ لذوي القربي" میں متعدد روایات حضرت مہدی (ع) کے بارے میں نقل کی ہیں۔  جیسے باب 65 میں لکھتا ہے: امام حسن عسکری (ع) اپنے والد کے بعد 6 سال زندہ رہے اور ابو القاسم محمّد المنتظر ملقّب بہ قائم، حجّت، مہدی، صاحب الزّمان اور خاتم الائمّۃ الاثنٰی عشر کے علاوہ اماميہ کے نزدیک انکا کوئی بیٹا نہیں تھا، ان کی ولادت 15 شعبان سن 255 ہجری کو واقع ہوئی، انکی والدہ ایک کنیز تھیں جن کا نام نرجس تھا، وہ (مہدی ع) اپنے والد کی وفات کے وقت 5 سال کے تھے اور وہ ابھی تک نظروں سے غائب ہیں۔

۲۵۔ سيّد مؤمن ابن حسن ابن مؤمن شبلنجی (متوفی 1290 ہجری):
کتاب "نور الابصار في مناقب آل النّبي المختار" میں حضرت مہدی (ع) والی فصل میں ایسے لکھا ہے: فصل في ذكر مناقب محمّد ابن الحسن الخالص ابن علي الهادي . . . ابن علي بن ابي طالب۔ ان حضرت کی بعض صفات کو ذکر کرنے کے بعد، اس نے انکی عمر کے طولانی ہونے کے بارے میں محمّد ابن يوسف گنجی شافعی کے دلائل کو نقل کیا ہے۔
(جاری ہے۔۔۔)




 
* * * * *
Read 113 times Last modified on سوموار, 14 ستمبر 2020 12:03

تازہ مقالے