ہفته, 29 آگست 2020 09:41


 


یہ مضمون مولانا طارق جمیل کی کتاب گلدستہ اہل بیتؑ سے ماخوذ ہے۔

تحریر: مولانا طارق جمیل

حضرت حسینؓ نے کس مقصد کے لیے قربانی دی:
حضرت امام حسینؓ ایک عظیم مقصد کی انجام دہی کے لیے بے چین ہو کر مدینہ سے مکہ اور پھرکہ سے کوفہ جانے کے لیے مجبر تھے  اور جس کے لیے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل بیت کو قربان کرکے خود راہ حق میںقربان ہو گئے۔ واقعہ شہادت کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام تر سفر سے آپؓ کا مقصد یہ تھا:

۱۔ کتاب و سنت کے قانون کو صحیح طور پر رواج دینا
۲۔ اسلام کے نظام عدل کو از سر نوقائم کرنا
۳۔ اسلام میں خلافت نبوت کے بجائے ملوکیت و آمریت کی بدعت کے مقابلہ میں مسلسل جہاد کرنا
۴۔ حق کے مقابلہ میں زور و زر کی نمائشوں سے مرعوب نہ ہونا
۵۔ حق کے لیے اپنی جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کر دینا
۶۔ راہ حق میں پیش آنے والے خوف و ہراس اور مصیبت و مشقت سے نہ گھبرانا، ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا، اسی پر توکل کرنا ار ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا۔ ( شہید کربلا، ص ۷)
حضرت حسینؓ کی سیرت طیبہ کے مطالعہ کے بعد کیا کسی مسلمان کو یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ کربلا میں آپؓ کا یہ جہاد اور حیرت انگیز قربانی اپنی حکومت و اقتدار کے لیے تھی؟ بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو اس مقدس ہستی کی عظیم الشان قربانی کو ان کی وضاحتوں کے باوجود بغض دنیوی عزت واقتدار کی خاطر قرار دیتے ہیں۔ حقیقت وہی ہے جو ابھی اوپر گزری کہ آپؓ کا یہ سارا جہاد صرف مندرجہ بالا مقصد کے لیے ہی تھا۔ ( شہید کربلا، ص ۱۱۹)

شہادت حسینؓ کی پیش گوئی:
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو اور دیکھا کہ آپ رورہے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو ناراض کیا ہے؟  یہ آپ کی آنکھوں سے آنسو کیسے جاری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بل قام من عندی جبریل۔ علیہ السلام۔ قبل فحدثنی ان الحسین یقتل لشط الفرات۔ ’’نہیں (مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ہے۔ بات یہ ہے کہ جبریلؑ  ابھی میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت حسینؓ کو دریائے فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا۔‘‘ اور پھر جبریلؑ نے مجھے یہ بھی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سرزمین کی مٹی سونگھا دوں؟  میں نے کہا: ہاں! انھوں نے ایک ہاتھ پھیلایا اور مٹی کی ایک مٹھی میرے سامنے کردی۔ اسے دیکھ کر میں ضبط نہ کر سکا اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ (مجمع الزوائد: ۹/۱۸۷، رقم:۱۵۱۱۲، و مثلہ فی فضائل الصحابۃ: ۲/۷۸۲، رقم: ۱۳۹۱)
ایک روایت میں ہے کہ جبریلؑ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کی امت انھیں ’’کربلا‘‘ نامی زمین میں قتل کرے گی۔ پھر جب شہادت سے قبل حضرت  امام حسینؓ کا مظلومانہ حالت میں چاروں طرف سے گھیرائو کر لیا گیاتھا تو آپ سلام اللہ و رضوانہ علیہ نے اس وقت پوچھا تھا: اس سرزمین کا نام کیا ہے؟ جواب ملا: ’’کربلا‘‘۔ آپؓ نے فرمایا: ہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے سچ فرمایا تھا، واقعی یہ ’’کرب‘‘ و ’’بلا‘‘ (یعنی دکھ اور آزمائش) والی سرزمین ہے۔ (مجمع الزوائد:۹/۱۸۹، و مثلہ فی فضائل الصحابۃ لأحمد بن حنبل: ۲/۷۷۰)

قتل حسینؓ پر رونما پذیر چند عجیب واقعات:
۱۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پراگندہ بال ہیں اورجسم گرد آلود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شیشی ہے جس میں خون ہے جو آپؐ نے اکٹھا کررکھا ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!  یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ھذا دم الحسین واضحابہ، لم ازل التقطہ منذالیوم ’’ یہ حسینؓ اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج سے اکٹھا کررہا ہوں (اور پھر اللہ کی بارگاہ  میں پیش کروں گا)۔ بعد میں جب حضرت حسینؓ کے قتل کی اطلاع ملی تو ٹھیک اُسی دن آپؓ کو شہید کیا گیا تھا۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۹/۱۹۴، مع مسند احمد: ۴/۳۳۷، و مثلہ فی دلائل النبوۃ للبیھقی: ۶/۴۷۱)
۲۔ امام زُہریؒ کا بیان ہے: جس دن حضرت حسینؓ کو شہید کیا گیا اس دن ملکِ شام میں جو پتھر بھی اٹھایا جاتا اس کے نیچے خون لگا ہوتا تھا۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۹/۱۹۶، وقال الھیثمی: رجالہ رجال الصحیح)
۳۔ حضرت  ابو قبیل کہتے ہیں: جس وقت حضرت حسینؓ کو شہید کیا گیا تو ہم نے دیکھا کہ سورج کی روشنی بالکل غائب ہو گئی اور اندھیرا اچھا گیا یہاں تک کہ دن کو ہی آسمان پر ستارے نظر آنے لگے۔ (المرجع السابق: ۹/۱۹۷، وقال الھیثمی: اسنادہ حسن)
۴۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا اثر فضا پر بھی ہوا چنانچہ ابن اثیرؒ نے لکھا ہے کہ آپؓ کی شہادت کے بعد دو تین ماہ تک یہ کیفیت رہی کہ سورج طلوع ہونے کے بعد جب دیواروں پر اس کی دھوپ پڑتی تو وہ اس قدر سرخ ہوتی ہے جیسے ان دیواروں کی خون سے لپائی کردی گئی ہو۔(الکامل فی التاریخ:۳/۱۹۳) اور بعض روایات میں ہے کہ کئی روز تک سورج کی یہی کیفیت عصر کے بعد بھی رہی۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد:۹/۱۹۷)
۵۔ حضرت ذوید جعفی کے والد بیان کرتے ہیں: حضرت حسینؓ کو شہید کرنے کے بعد ان کے لشکر میں سے ایک اونٹ چھین لیا گیا۔ ذبح کرکے جب اسے پکایا تو گوشت کے بجائے نِرے خون کے لوتھڑے تھے، پھر لوگوں نے اسے پھینک دیا۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۹/۱۹۶)

قاتلانِ حسینؓ کا انجام بد:
امام زُہری فرماتے ہیں کہ جو لوگ قتل حسینؓ میں شریک تھے ان میں سے ایک بھی نہیں بچا جس کو آخرت سے پہلے دنیا میں سزا نہ ملی ہو: کوئی قتل ہوا، کسی کا چہرہ کالا سیاہ ہو گیا، کسی کی شکل مسخ ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔ (شہید کربلا، ص:۱۰۸)
۱۔ ابن زیاد جس نے حضرت حسینؓ کے سر اور ہونٹوں پر چھڑی مار کر ان کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس سے اس طرح بدلہ لیا کہ چند ہی سال بعد ابراہیم بن اشتر کے ہاتھوں وہ قتل ہوا۔ مختار بن ابی عبید ثقفی نے اسے ابن زیادہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب ابن زیاد قتل ہو یا تو اس کا سر اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے اور مختار کے سامنے ڈال دیے گئے۔ ایک پتلا سانپ آیا جو ان سروں کے درمیان گھوما  اورچھانٹ کر ابن زیاد کے منہ میںگھسا اور اس کے ناک کے نتھنوں سے نکلا، پھر ناک کے نتھنوں میں گھسا اور منہ سے نکلا اور وہ یہی کرتا رہا کہ ان سب سروں میں سے صرف ابن زیاد کے سر  میں گھستا  اور منہ سے نکلتا رہا۔ پھر مختار نے ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ (یا عبداللہ بن زبیر) کے پاس بھیجا تو ان سروں کو مکہ  میں لٹکا دیا گیا اور ابن اشتر نے ابن زیاد کی لاش اور اس کے ساتھیوں کی لاشوں کو آگ میں جلا دیا۔ (شہید کربلا، اور یزید، ص:۱۳۲ نقلاً عن عمدۃ  القاری:۱۶/۲۴۱، و مثلہ عند الترمذی: ۵/۶۶۰)
۲۔ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے حضرت حسینؓ کے سر مبارک کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکایا تھا، اس کے بعد اسے دیکھا گیا کہ اس کا منہ کالا تارکول ہوگیا۔ لوگوں  نے پوچھا کہ تم تو سارے عرب میں خوبصورت آدمی تھے؟ تمھیں کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ جس دن سے میں نے یہ سر گھوڑے کی گردن میں لٹکایا، جب ذرا سوتا ہوں دو آدمی میرے بازو پکڑتے ہیں اور مجھے ایک دہکتی ہوئی آگ پر لے جاتے ہیں اور اس میں ڈال دیتے ہیں جو مجھے جھلسا کے رکھ دیتی ہے۔ پھر وہ اسی حالت میں چند روز بعد مر گیا۔(شہید کربلا، ص:۱۰۹)
۳۔ حضرت حسینؓ کو جنگ کے آخر میں جب شدید پیاس لگی تھی اس وقت جس آدمی نے آپؓ کو تیر مارا تھا اورپانی نہیں پینے دیا تھا، اس شخص پر اللہ تعالیٰ نے سخت قسم کی پیاس کو مسلط کر دیا، کسی طرح اس کی پیاس نہیں بجھتی تھی۔ اس کے پاس ٹھنڈے میٹھے مشروبات اور دودھ سے لبریز بڑے بڑے پیالے لائے جاتے، مگر وہ یہ سب کچھ پی کر بھی کہتا: اسقونی اسقونی قتلنی الظما۔ ’’مجھے کچھ پینے کو دوٖ! مجھے کچھ پینے کو دوٖ! پیاس نے مجھے ہلاک کر ڈالا ہے۔ اسی طرح وہ پیاس پیاس کرتا رہا یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا جیسے اونٹ کا پیٹ پھٹتا ہے اور وہ مرگیا۔ (الکامل فی التاریخ: ۳/۱۸۱، و تاریخ الطبری:۵/۴۵۰)
۴۔ قاتلان حسینؓ پر طرح طرح کی زمینی و آسمانی آفتوں کا ایک سلسلہ تو تھا ہی، واقعہ شہادت سے پانچ ہی سال بعد سنہ۶۶ھ میں مختار ثقفی کو کوفہ اور عراق پر غلبہ حاصل ہو گیا۔ اس نے قاتلان حسینؓ کو سزا دینے کے لیے ان کی تلاش اور گرفتاریاں شروع کیں:
عمروبن حجاج ڈرکر پیاس اور گرمی میں بھاگا، پیاس کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر پڑا، بالآخر اسے ذبح کردیا گیا۔ شمر بن ذی الجوشن جو حضرت حسینؓ کے بارے میں سب سے زیادہ سخت اور بدبخت تھا، اس کو قتل کرکے لاش کتوں کے سامنے ڈال دی گئی۔
مالک بن بشیر نے حضرت حسینؓ کی ٹوپی اٹھائی تھی، اس کے دونوں ہاتھ دونوں پائوں کاٹ کر میدان میں ڈال دیا، تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
عثمان بن خالد اور بشر بن شمیط عبدالرحمن بن عقیلؓ کے قتل میں شریک تھے، ان کو پہلے قتل کیا گیا پھر جلا دیا گیا۔ 
عمر بن سعد (جو حضرت امام حسینؓ کے مقابلہ میں لشکر کی کمان کررہا تھا) کو قتل کرکے اس کا سرتن سے جدا کردیا گیا اور پھراس کے لڑکے حفص کو بھی قتل کر دیا گیا۔
خولی بن یزید جو امام حسینؓ کا سر مبارک کوفہ لے گیا تھا، اس کو قتل کرکے آگ سے جلا دیا گیا تھا۔
حکیم بن طفیل جس نے حضرت حسینؓ کو تیر مارا تھا، اس کا بدن تیروں سے چھلنی کردیا گیا، اسی میں ہلاک ہوا۔ زید بن رقاد نے حضرت حسینؓ کے بھتیجے مسلم بن عقیلؓ کے صاحبزادے عبداللہ کو تیر مارا تھا، اس کو گرفتار کرکے پہلے اس پر تیر اور پتھر برسائے گئے پھرزندہ جلا دیا گیا۔
قاتلان حسینؓ کا یہ عبرتناک انجام معلوم کرکے بے ساختہ یہ آیت زبان پہ آتی ہے: 
کَذٰلِکَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(القلم:۳۳)
یعنی عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑا ہے، کاش وہ سمجھ لیتے۔
شہادت حسین کے بعد یزید کو بھی ایک دن چین نصیب نہ ہوا۔ تمام اسلامی ممالک میں خون شہداء کا مطالبہ اور بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ اس کے بعد اس کی زندگی دو سال آٹھ ماہ  اور ایک روایت میں تین سال آٹھ ماہ سے زائد نہیں رہی۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا اور اسی ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔ (مستفاد من شہید کربلا، ص:۱۱۱، والکامل فی التاریخ:۳/۳۱۱ وما بعدھا، والبدایۃ والنھایۃ: ۱۲/۱۵ ومابعدھا فی ذیل العنوان: ’’تتبع المختار لقتلۃ الحسین‘‘)


 
* * * * *
Read 121 times Last modified on ہفته, 29 آگست 2020 09:49

تازہ مقالے