ہفته, 29 آگست 2020 09:37



ہجری سال1442 ء آغاز ہو چکا ہے۔ ہجری تقویم کی ابتداء ماہ محرم سے ہوتی ہے جو اہل بیت رسول ؐ اور ان کے پیروکاروں نیز محبین کے لیے غم و حزن کا مہینہ ہے ۔ ماہ محرم الحرام اور ماہ صفر امت رسول ؐ کے مابین ایام عزا کے طور پر معروف ہیں۔عرب معاشرے میں یہ مہینے حرمت والے مہینے تصور کیے جاتے تھے جن میں عرب قبائل جنگوں اور کشت و خون کا سلسلہ ترک کر دیتے تھے، تاہم واقعہ کربلا میں یہ روایت بھی ترک کی گئی اور خانوادہ رسول اکرم ؐ کو میدان کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاساتہ تیغ کر دیا گیا۔

واقعہ کربلا صدیوں سے اہل اسلام کے دلوں میں حرارت و زندگی کا موجب ہے، نہ فقط اہل اسلام بلکہ دنیا کا ہر حریت پسند انسان اس واقعہ سے درس آزادی لیتے ہوئے اپنی راہ کا تعین کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس واقعہ کے اسباب ، عوامل اور اثرات پر غور و فکر کیا جائے کیونکہ یہ اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے واقعہ ہے۔ ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا حالات اور عوامل تھے جن کے سبب امام حسین علیہ السلام مدینہ کو ترک کرکے مکہ گئے نیز وہاں سے حج کو ترک کرکے کوفہ کی جانب گئے ۔ کوفی مسلمانوں کے خطوط اور حضرت مسلم بن عقیل سفیر امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت نیز اس بیعت سے پھر جانااور مسلم کو تنہا چھوڑ دینا ایسے واقعات ہیں جن کا آج بھی امت کو تجزیہ اور تحلیل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
جب تک ہم اس واقعہ اور اس کے اسباب و عوامل کو سمجھ نہیں لیتے اپنے معاشرے کی تشخیص نہیں کر سکتے کہ ہماری روش اسلامی منہج کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام اور ان کا موقف آج بھی حق و باطل کا معیار ہے ۔ اگر آج ہماری روش ، حسینی موقف سے ٹکرا رہی ہے تو ہمیں یقین کر لینا چاہیے کہ ہم لاشعوری طور پر یزیدی اسلامی معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہم اس واقعہ کی تحلیل کے ذریعے اپنے کرداروں کا تعین بھی کر سکتے ہیں ۔ یہاں سےہمیں واقعہ کربلا کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اگر یہ واقعہ وقوع پذیر نہ ہوتا تو اسلامی معاشرے میں موجود بگاڑ آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا اور حقیقی اسلام ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا ۔اسی لیے تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے کہا :
دین است حسین ؑ دین پناہ است حسین ؑ
آج کسی بھی معاشرے ، فرد ، روش میں اسلام سے قرب کے تعین کا معیار حسین علیہ السلام ہیں ۔ اگر کسی بھی ریاست، حکمران ، فرد ، گروہ ، قوم کی روش ، اقدامات اور فیصلے روش حسینی سے ہٹ کر ہیں تو ہم پر واضح ہے کہ یہ اسلام نہیں ہے۔ محرم الحرام کی مناسبت سے ماہنامہ پیام کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے قارئین کے لیے واقعہ کربلا اور قیام حسینی ؑ کے حوالے سے معارف اور مطالب کو پیش کیا جائے ، اس مرتبہ بھی اسی کاوش کے ہمراہ قارئین کے پیش خدمت ہیں۔
ماہنامہ پیام کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اپنی تحریروں میں اتحاد امت کے عظیم مقصد کو بھی مدنظر رکھا جائے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ عاشورہ کی آمد سے قبل امت کے جسد میں مختلف طرح سے چرکے لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔کبھی سیدہ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء کی ذات پر حملہ تو کبھی مقدسات اہل سنت کی توہین ۔ یہ پیشہ ور ملا شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر امت کے جسد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ امت مسلمہ کو اس بات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان افراد کی شنیع حرکات کو مسلک کا موقف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان بیانات کو اس فرد کی ذاتی رائے سمجھ کر اس کے خلاف مناسب اقدام کیا جانا چاہیے ۔ساتھ ساتھ ہمیں ان افراد کی کاوشوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اس فتنہ کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں ۔ یہ لوگ اپنوں اور غیروں کے طعن و تشنیع کا ہدف بنتے ہیںتاہم ایسے ہی لوگوں کے سبب آج یہ امت ایک جسد کے صورت میں ظاہر ہے ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ اہل بیت علیہ السلام کا درس بھی یہی ہے کہ دین اسلام ، امت کا اتحاد ہر مسئلہ سے عظیم تر اور مقدس ہدف ہے جس کی حفاظت کے لیے ائمہ اہل بیت نے ہمیشہ قربانیاں دیں۔ وہ لوگ جو آج اسلامی معاشرے میں فتنوں کے خلاف برسر پیکار ہیں کا تعلق اسی قبیلہ سے ہے اور یہی لوگ حقیقی پیرو امام ہیں۔ 
شہید کربلا امام حسین علیہ السلام کی شہادت امت مسلمہ کا مشترکہ ورثہ اور اثاثہ ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ شہادت پوری بشریت کا اثاثہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اثاثہ سے باہمی اخوت اور رواداری کے ماحول میں استفادہ کیا جائے ۔ زیر نظر مجلے میں ہم نے اسی حوالے سے متعدد مضامین کو شامل کیا ہے ۔ مولانا طارق جمیل کی کتاب گلدستہ اہل بیت ؑسے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں واقعہ کربلا کے بعد کے واقعات نیز قاتلان حسین ؑکے انجام کو اہل سنت منابع سے پیش کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ایک مضمون قیام کربلا کے فلسفہ پر مشتمل ہے جس میں سیدہ ندا حیدر نے کربلا کو اطاعت الہی کے مظہر سےتعبیر کیا ہے۔ ایک مضمون میں امام مہدی علیہ السلام کے نسل امام حسین ؑ سے ہونے کو اہل سنت منابع سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ مضمون سید حیدر نقوی کی تحریر ہے۔ عرب معاشرہ ، دور حاضر اور پیام حسینی کے عنوان سے ایک مضمون راقم کی تحریر ہے جس میں بعثت پیغمبر سے قبل کے عرب معاشرے کو امیر المومنین ؑ کی زبانی جبکہ 61ہجری سے قبل کے عرب معاشرے کو امام حسین ؑ کے اقوال اور خطابات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس مضمون میں دور حاضر میں واقعہ کربلا سے قبل کے عرب معاشرے میں پائی جانی مماثلتوں کو بیان کیا گیا ہے ۔زیر نظر شمارے میں جناب ثاقب اکبر کی جانب سے پیر محمد خالدسلطان القادری سروری کی کتاب سعادت الکونین فی مناقب امام حسین رضی اللہ عنہپر بھی ایک تبصرہ پیش کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر سید مقیل حسین کا میر انور بادشاہ کی رثائی شاعری پر بھی ایک مضمون لائق توجہ ہے۔ اس شمارے میں بعض اساتذہ کے امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے کلام کا مختصر انتخاب بھی پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے ہماری یہ کاوش قارئین کرام کو پسند آئے گی۔ آپ کی تجاویز اور آرا کا منتظر 

مدیر ماہنامہ پیام 
سید اسد عباس
* * * * *
Read 118 times Last modified on منگل, 29 ستمبر 2020 08:22

تازہ مقالے