منگل, 04 آگست 2020 15:58



پاکستان کے بننے کے بعد بعض ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن کو بجا طور پر ایک افتخار کے ساتھ پوری قوم کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے اسی طرح ان دستاویزات کو پاکستان سے باہر بھی اپنی نظریاتی اساس نیز ایک مثال کے طور پر دکھایا جاسکتا ہے ۔ یہ ایسی دستاویزات ہیں جو پاکستان کی نظریاتی اساس کو بیان کرتی ہیں ۔ ان میں اکتیس علماء کے بائیس نکات ہیں، جس میں تمام مسالک کے علماء نے اسلامی ریاست کے خدوخال کو بیان کیا ہے ۔  اس کے بعد قرارداد مقاصد جو بعد میں پاکستان کے آئین کا حصہ بنی کو بھی اہم دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے ۔ 
بعض کمیوں بیشیوں کے ساتھ 1973کا آئین بھی ایک بڑی دستاویز ات میں سے ایک ہے ۔اسی طرح اتحاد امت کے لیے کی گئی کوششوں میں جو اجتماعی فکر اور دانش امت کے لیے نیک جذبوں کے ساتھ بروئے کار لائی گئی ہے اس میں بھی اچھی دستاویزات سامنے آئی ہیں ۔ بعض دیگر جماعتوں نے جو پاکستان کے حوالے سے خواب دیکھے اسی طرح ان جماعتوں کے منشور بھی ایسے ہیں جن میں اچھے نکات شامل ہیں ۔ ان دستاویزات کو بھی پاکستان کی اہم دستاویزات قرار دیا جاسکتا ہے۔
انہی دستاویزات میں سے ایک خاصی نظرانداز شدہ اور اہم دستاویز ہے جس کو ’’سبیلنا ‘‘ یا ’’ہمارا راستہ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ 1987میں علامہ عارف حسین الحسینی شہید کی قیادت میں 6جولائی کو ہونے والی قرآن و سنت کانفرنس میںپیش کی گئی ۔ یہ دستاویز بہت ترقی یافتہ سوچ کے ساتھ مرتب کی گئی، جس میں پاکستان کا درد رکھنے والے لوگوں نے اسے پاکستان کے مستقبل کے ارمان کے طور پر وضع کیا۔ اس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے ۔ یہ درست ہے کہ یہ دستاویز ایک ایسے پلیٹ فارم سے پیش کی گئی جس کا ایک مسلکی پس منظر ہے تاہم یہ جان کر سب کو حیرت ہوگی کہ اسے بہت وسعت قلب و نظر سے لکھا گیا ہے اور اس دستاویز میں کوئی روح ، کوئی علامت ایسی نہیں ہے کہ اسے مسلکی کہ سکیں ۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایک اللہ کی کتاب ہی ہے جو کامل و اکمل ہے تاہم جہاں تک انسانی اذہان سے تیار کی جانے والی دستاویزات کا تعلق ہے تو ان میں بہتری کا امکان ہمیشہ رہتا ہے بہرحال اس دستاویز میں جو مطالب انسانی خلوص اور سوز کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں میں بہت سے قابل استفادہ نکات موجود ہیں۔
میرے خیال میں 14اگست 2020کو اگر اس دستاویز کو سامنے رکھ کر پاکستان کی ضروریات اور حالات کو دیکھا جائے تو آج بھی یہ دستاویز ایک راہنما کی حیثیت رکھتی ہے ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کیسا ہونا چاہیے ، اہم انسانی اور اسلامی مسائل کے بارے کیا نقطہ نظر ہونا چاہیے اس دستاویز کا حصہ ہے ۔ اسلام کی آفاقی تعلیمات کی جھلک اس میں موجود ہے ۔ پاکستان کے تمام شعبہ جات اور اداروں میں اصلاحات کا رخ کیا ہونا چاہیے وہ اس دستاویز میں بیان کیا گیا ہے ۔
 اس دستاویز کی تیاری میں تاریخی اعتبار سے اگرچہ مشکلات پیش آئی ہیں ، بعض رجعت پسند اذہان اسے قبول نہ کرتے تھے تاہم جس فورم سے اس دستاویز کو پیش کیا گیا انھوں نے اسے اتفاق رائے سے منظور کیا ۔ شہید حسینی خود بھی ایک وسیع النظر شخص تھے ،پاکستان میں اتحاد امت کے لیے جن کا دل واقعا دھڑکتا تھا اور جنہیں ہم نے قریب سے محسوس کیا ان میں علامہ عارف حسین الحسینی کا نام نمایاں ہے ۔ آپ مرد صالح اور پاکباز انسان تھے جو ان کی قربت سے ہمیں اندازہ ہوا۔
پیام کے زیر نظر مجلے کو ہم اس اہم اساسی دستاویز کے لیے مختص کر رہے ہیں تاکہ اس دستاویز کا احیاء کیا جائے اور آج کی نسل کے سامنے اس دستاویز کو پیش کیا جائے ۔ تاکہ یہ نسل نو اس دستاویز کو سامنے رکھ کر پاکستان کے ایک اچھے مستقبل کو اپنا خواب اور ارمان بنا سکیں ۔ ہم چاہئیں گے قارئین اس دستاویز کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کریں۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
سید ثاقب اکبر
مدیر اعلی ماہنامہ پیام 
Read 135 times
More in this category: آغاز سخن »

تازہ مقالے