نظریہ فطرت کی کلامی حیثیت

Bookmark and Share

murtaza.jpg

مولف :حمید نگارش

ترجمہ ثاقب اکبر

دینی مفکرین میں سے معاصر فرزانہ متکلم استاد مطہری وہ نمایاں ترین شخصیت تھے جنہوں نے علمِ کلام کے حقیقی مقام کو مشخص کرتے ہوئے اسلام کو ایسا جامع اور ہمہ گیر نظام ثابت کردکھایا جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا کرسکتا ہے اور اس کے لیے دونوں جہانوں کی سعادت کا حامل ہے۔ استاد مطہری کا تمام تر ہم و غم دین کا دفاع تھا؛ لہٰذا انہوں نے ایک عظیم نگہبان کی حیثیت سے گہری وسعتِ نظر کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی تشریح کرتے ہوئے اغیار کے شبہات اور اتہامات کا سامنا کیا اور اسلامی تعلیمات کے دفاع کو اپنا دستور کار بنالیا۔ حقوقِ نسواں کی وضاحت، مسئلہ حجاب، فلسفہ اخلاق، دین کا دوام، دین کی ضرورت، سائنس اور دین وغیرہ جیسے موضوعات اپنے تنوع کے باوصف معرفت کی وسعت اور روش کے امتیاز سے تعلق کے حوالے سے استاد کی نظر میں کلامی موضوعات قرار پائے۔

دیگر حکما کی طرح استاد مطہری کی نظر میں بھی علوم اپنے موضوعات کے امتیاز کی بنیاد پر الگ تھلگ قرار پاتے ہیں یہاں تک کہ وہ علم کلام کے مسائل کی وحدت کو اعتباری اور فرضی سمجھتے ہیں اور علم کلام کی طرف وہ اس کے موضوع کی نسبت اس کی روش اور غرض کے لحاظ سے زیادہ نظر کرتے ہیں۔ لہٰذا علمِ کلام ایسے مطالب کا مجموعہ ہے جنہیں دین کی حدود کا دفاع اور ان کا اثبات کرتے ہوئے اور مخالفین کے نقطہ نظر کو رد کرتے ہوئے بیان کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں استاد مطہری کی رائے میں علم اخلاق، علم قانون اور علم فقہ کا فریضہ فقط اخلاقی، قانونی اور فقہی نظریات بیان کرنا ہی نہیں بلکہ شبہات کے مقابل ان کا دفاع بھی علم کلام کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح سے کہ ایک متکلم عمرانیات اور قانون وغیرہ کے مسائل میں داخل ہوسکتا ہے اور صرف اس پہلو سے کہ جس سے ان کا تعلق دین سے بنتا ہے شبہے کا ازالہ کرسکتا ہے۔اسلام میں عورت کے حقوق کا نظام، مسئلہ حجاب اور ایران واسلام کی ایک دوسرے کے لیے خدمات وغیرہ جیسی ان کی کتابیں اسی پہلو سے بامعنی ہیں۔

استاد نے جن اہم مسائل کے بارے میں بات کی ہے ان میں سے ایک فطرت ہے۔ اس مقالے میں کوشش کی گئی ہے کہ ان کی کتب میں اس نظریے کی کلامی اہمیت کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اس کے بعض پہلو واضح کیے جائیں۔ درحقیقت پیش نظر تحقیق کا مفروضہ علم بشریات و معرفت دین وغیرہ جیسے علوم کی حدود میں فطرت کے کلیدی کردار پر بات کرنا ہے اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ نظریہ فطرت جہاں بہت سی کلامی پیچیدگیوں کو حل کرتا ہے وہاں یہ دینی طرز عمل اور تعلیمات کی تشریح کا ایک معیار بھی ہے۔

فطرت انسانی اسلام کے مثالی انسان کی ترجمان ہے

کیئر کگارڈ (Kierkegard) ، ہائیڈیگر(Heidegger) اور یاسپرس (Yaspers) جو فلسفہ وجودیت (Existentialism) کی فکری تحریک کے پیش رو ہیں، کی تحریروں سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے اس کے مطابق انسان پیدائش کے وقت ایک استعداد کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور اس کے لیے کسی ماہیت کو فرض نہیں کیا جاسکتا،انسان آزاد ہے اور ہر قید و صفت جو انسان کو مقید کرے آزادی کی مخالف ہے۔(1) ہیوم اور جان لاک جیسے تجربیت پسندوں کا بھی نظریہ ہے کہ انسان کے اندر کچھ ”معلوم“ نہیںہوتا اور وہ ہر چیز باہر سے حاصل کرتا ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ ہر چیز سیکھی اور سکھائی گئی ہوتی ہے۔

استاد مطہری مکتب وجودیت کے گروہوں کی فکر کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ چونکہ فطرت کو آزادی کا مخالف سمجھتے ہیں، وہ سرشت سے متعلق ہر امر کے مخالف ہیں اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ سرشت سے متعلق ہر امر آزادی کا مخالف ہے۔لہٰذا انسان بھی ہر طرح کی طبیعت اور ماہیت سے محروم ہے اور نتیجے کے طور پر فطرت سے عاری ہے گویا انسان موجود ہے لیکن کسی سرشت و فطرت کا حامل نہیں۔(2)

اس مکتب کی نظر میں انسان کی حقیقی ”خود“ یہ ہے کہ وہ کسی ”خود“ کا حامل نہ ہو اور انسان کے کیے کسی ”خود“ کے فرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے لیے ماہیت و سرشت کے قائل ہوگئے ہیں حالانکہ انسان ایک بے سرشت و بے ماہیت وجود ہے۔(3) استاد مطہری ایک اسلامی انسان کے نمونے کو تمام موجودات کا نچوڑ اور زمین پر خلیفہ اللہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، ایک ایسا موجود جو خلافتِ تکوینی کا نیز اختیار، قدرت اور آزادی کا حامل ہے اور کوئی امر اس کی آزادی کو مخدوش نہیں کرتا۔ ان کا نظریہ ہے کہ اسلامی انسان خدا کی طرف سے ایک برگزیدہ موجود ہے جو نصف ملکوتی ہے اور نصف مادی، خداآشنا فطرت کا حامل، آزاد، صاحبِ استقلال، امین الہٰی اور اپنا بھی مسول ہے اور عالم کا بھی، نیز وہ عالم طبیعت اور زمین و آسمان پر تسلط رکھنے والا ہے، اسے خیر و شر کا الہام کیا گیا ہے اور وہ لامحدود علمی و عملی ظرفیت رکھتا ہے۔ انسان ذاتی طور پر شرف و بزرگواری کا حامل ہے اور اپنے اللہ کے حضور جواب دہ ہے۔(4) استاد مطہری یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان ماحول کا ردعمل یا لوح نانوشتہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا چراغ ہے جس میں فطرت نام کی الہٰی روشنی ہے اور جس میں کوئی بھی شخص روغنِ شریعت الہٰی ڈال کر اسے فروزاں تر اور نورانی تر کرسکتا ہے۔ ان کی نظر میں یہ شعلہ ضمیر انسانی کے کاشانہ کو تپش عطا کرتا ہے اور یہ ہمارے اسلامی معارف کے مسلمات میں سے ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو اس اسلامی بشریات کے نمونے کو وجودیت اور مارکسزم وغیرہ کی بشریت سے جدا کرتی ہے۔ استاد کی رائے میں یہ نمونہ معرفت الہٰی، معرفتِ بشر اور معرفت دین کے مابین ارتباط کو واضح کرتا ہے۔

نظریہ فطرت کے بیان میں استاد کی روش

نظریہ فطرت میں استاد کی روش دین کے اندر سے پھوٹتی ہے جس تک وہ قرآنی تعلیمات اور روایات کے ذریعے پہنچے ہیں۔ استاد نے جو نقلی استنادات پیش کی ہیں، ان میں سے ایک یہ معروف حدیث نبوی ہے: کل مولود یولد علی الفطرة حتی ابواہ یہودانہ و ینصرانہ۔(5) یہ حدیث اس امر کو بیان کرتی ہے کہ جو بھی مولود پیدا ہوتا ہے وہ شرک سے خالی ہوتا ہے اور الہٰی و اسلامی فطرت پر دنیا میں آتا ہے اور استاد کی تعبیر کے مطابق انحرافی رنگ دوسرے راستے سے اس پر القا کیے جاتے ہیں۔ استاد کی دینی فکر ان کے امام خمینی جیسے اساتذہ کی تاثیر سے خالی نہیں ہے۔ امام خمینی کی رائے تھی کہ فطرت ایک خاص ہیئت رکھتی ہے جو اللہ تعالیٰ ابتدائے خلقت پر مخلوقات کو عطا کرتا ہے اور انسان چونکہ مخلوقات میں سے ایک ہے اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی فطرت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی دستیابی سے ہی انسان، انسان بنتا ہے اور دیگر مظاہر سے ممتاز ہوتا ہے اور یہ فطرت ایسی خصوصیات رکھتی ہے جو اسی سے مختص ہیں اور دیگر موجودات کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔(6)بنابریں استاد دین کو وجود بشر سے پھوٹنے والی نیاز سمجھتے ہیں۔ ہستیِ انسان کا تار و پود اسی سے بنا ہے اور اس میں بیرونی عوامل کا کوئی کردار نہیں۔( (7

استاد مطہری آیات، روایات اور اپنی دینی فکر سے استفادہ کرتے ہیں اور  نظریہ فطرت کو ام المسائل قرار دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں فطرت کے بارے میں مکمل بحث نہیں کی گئی چاہے یہ تفسیر سے متعلق کتب ہوں، حدیث سے متعلق یا کسی اور موضوع سے متعلق۔(8) استاد کی نظر میں کلامی حوالے سے نظریہ فطرت بہت کارآمد ہے، خاص طور پر معرفت خدا، معرفت انسان، دین شناسی اور اخلاق کے موضوعات میں۔


معرفت خدا

استاد مطہری نے فطرت کے بارے میں جن اہم ترین مسائل کو اٹھایا ہے ان میں سے ایک معرفت الہٰی ہے۔ وہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ انسان کے اندر خدا کی جستجو، خدا خواہی اور خدا پرستی ایک جبلّت کے طور پر رکھ دی گئی ہے۔ خدا خواہی اور خدا کی جستجو ایک طرف مرکز دل اور انسانی احساسات اور دوسری طرف مرکز ہستی کے مابین ایک طرح کی روحانی کشش اور جاذبے کے طور پر موجود ہے۔(9) نظریہ فطرت کا اثبات ہوجائے تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے اندر ایک طرح کا باطنی شعور اور خاص میلان موجود ہے۔ درحقیقت نظریہفطرت بتاتا ہے کہ انسان کے اندر خدا کی طرف میلان کی کیا وجہ ہے۔ اہل دانش کے مابین ہمیشہ سے یہ سوال موجود رہا ہے کہ خدا کی طرف سے میلان کی کیا وجہ ہے۔ یہ ایک ایسا مظہر ہے جو ہر دور میں مختلف ثقافتوں میں رائج اور عام رہا ہے۔ استاد کی نظر میں نظریہ فطرت ہمیں اس سوال کا جواب مہیا کرتا ہے۔ استاد کے اس طرز عمل نے دوسرے بہت سے سوالات کا جواب بھی دے دیا ہے۔ مثال کے طور پر جدید کلامی مسائل میں سے اس سوال کا جو حال ہی میں اٹھایا گیا ہے کہ اصولاً انسان کو دین کی ضرورت ہی کیا ہے اور اگر وہ کسی دین کو قبول نہ کرے تو اس کی زندگی میں کیا خلل اور کیا کمی پیدا ہوتی ہے۔

نظریہ فطرت کو پیش نظر رکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ دین کی ضرورت اور ایک مبدا بلند سے ارتباط کی ضرورت خود انسانی وجود کی گہرائی میں موجود ہے کہ جسے پورا کیے بغیر انسان ہمیشہ ایک کمی کا احساس کرتا ہے۔ خدا کی طرف میلان کے فطری ہونے کا بلاواسطہ نتیجہ استاد کی مفہوم سازی کی فکر کے مطابق یہ ہے کہ اس نظریے کی بنیاد پر انبیائے الہٰی نے کبھی لوگوں سے یہ نہیں کہا کہ ضرور عبادت کرو کیونکہ اس نظریے کے مطابق انسان عبادت کے بغیر زندگی بسر نہیں کرسکتا اور پرستش کرنا انسان کی ایک ذاتی جبلت اور فطرت ہے۔ انبیا کی تعلیم محض اتنی تھی کہ اے انسان! تو اپنے رب، اپنے پروردگار اور اپنے صاحبِ اختیار کی پرستش کر، وہ صاحب اختیار کہ تمام ہستی جس کے ارادے سے وابستہ ہے۔

معرفتِ انسان

کیا انسان اپنے اندر اللہ سے آگاہ ہوجاتا ہے یا یہ نظریہ باہر سے اس پر تحمیل کیا جاتا ہے؟ انسان کا دین سے تعلق کس قسم کا ہے؟ کیا سب انسانوں کو ایک ہی دین پیش کیا جاسکتا ہے؟ انسان کس بنیاد پر کمال حاصل کرتا ہے؟

بلاشہ استاد مطہری کے نظریہ بشریت میں کلامی مبنا اسلام کے مثالی انسان کے ساتھ مذکورہ اور اس طرح کے سوالات کا جواب دیتا ہے۔ جس ماڈل کا تصور استاد کے مفہوم سازی کے اصول پر کیا جائے گا وہ نظریہ فطرت پر استوار ہوگا یعنی وہ اصالتِ انسان کو نظریہ فطرت قبول کرنے پر منحصر جانتے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ اگر ہم فطرتِ انسانی کے قائل ہوں یعنی انسانی معیارات کو ایسے ثابت معیارات جانیں کہ جن کی بنیاد انسانی فطرت ہے تو نہ صرف انسانیت بلکہ انسانیت کا کمال بھی بامعنی و با مفہوم ہوجائے گا۔(10)

استادمطہری کی نظر میں بشر شناسی کا اہم ترین رکن عِلوی خود اور سفلی خود کے مابین تمیز ہے۔ ان کی رائے میں عِلوی خود کی بازگشت اسی فطرت کی طرف ہے۔ وہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ انسان اس عِلوی خود کو اپنے اندر پوری طرح احساس کرتا ہے۔ انسان کی فطرت اپنی سرشت کے مطابق ایک ایسی شکل کی حامل ہے کہ جو خود بلند مرتبہ میلانات کی حامل ہے اور جو اس کی خلقت ہی کے ساتھ اندر ہی سے وجود میں آئی ہے نہ یہ کہ باہر سے اس پر عارض ہوئی ہے اور درحقیقت اس کے بلند مرتبہ میلانات اس کے عِلوی خود کے ہی میلانات ہیں جو حیوان سے انسان کی امتیاز فصل کی راہ ہموار کرتے ہیں اور اس کے یہ میلانات انسان ہی سے مختص ہیں جبکہ وہ میلانات جو سب حیوانات سے مربوط ہیں اس کی پست خود کو تشکیل دیتے ہیں۔

فطرت اور انسان کی کمال پذیری

علم بشریات اور معرفت انسان کے دائرے میں جن موضوعات کو اٹھایا گیا ہے ان میں سے ایک سوال یہ ہے کہ انسانی کمال کی بنیاد کیا ہے؟ استاد کے نظریے کے مطابق فطرت اور ثابت انسانی اقدار کے وجود پر اعتقاد کے بغیر انسان کی کمال پذیری کی وادی میں قدم نہیں رکھا جاسکتا۔ مارکسزم اور وجودیت جیسے مکاتب ایک طرف کمال پذیری کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف بلند مرتبہ قدر کا انکار کرتے ہیں اور اس طرح وہ تناقض و تضاد میں پھنس جاتے ہیں۔ لہٰذا انسانی اقدار کو اصول ثابت اور انسانی وجود میں ریشہ دار جاننا چاہیے تاکہ  کمال پذیری بامعنی ہوجائے اور یہ اقدار اور میلانات فطری امور ہیں اور کمال پذیری بھی اسی مفروضے پر استوار ہے۔

فطرت و تربیتِ انسانی

نظریہفطرت ثابت و مشترک اقدار کا تمام انسانوں میں اثبات کرتا ہے جو ایک مکتب کے اثبات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس امر کو پیش نظر رکھیں تو نظریہ فطرت فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے اور اس سے فلسفہ تعلیم و تربیت کا پیغام ملتا ہے۔ نظریہ فطرت کی بنیاد پر انسان میں بالقوہ صورت میں انسانی صلاحیتیں بھی موجود ہیں جنہیں پروان چڑھانا چاہیے اور تربیت کا مطلب ہی ان صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے اس طرح کہ وہ کھل اٹھیں اور انسانی وجود میں بلند مرتبہ اقدار جم جائیں۔ استاد کی رائے میں فطرت کا تربیت سے خاص تعلق ہے اور تربیت اسی فطرت کی بنیاد پر عملی شکل حاصل کرتی ہے کیونکہ رشد و تربیت دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان کے اندر کچھ صلاحیتوں اور خصوصیتوں کو قبول کیا جائے۔( (11

فطرت اور خود سے بیگانگی

”خود سے بیگانگی“ یورپی فلسفے کی ایک رائج اصطلاح ہے۔ اس نظریے کا بانی ہیگل ہے۔اس اصطلاح کے مغربی اور اسلامی مفہوم ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔اس اصطلاح میں مغربی افکار کی نمود ہمیں ہیگل کے شاگرد فرئر باخ کی تحریروں میں دکھائی دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا اور دین کا خیال انسان کا اپنا ہی بنایا ہوا ہے اور خدا انسان کے اپنے خداکے مثالی تصور کے سوا کچھ نہیں اور انسان اس خود ساختہ خدا کو پوجتا ہے اور نتیجے کے طور پر خدا کے سامنے اپنے آپ سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔

شہید مطہری دینی فکر سے ہدایت لیتے ہوئے خود سے بیگانگی اور مسخ کی صحیح تفسیر کو فطرت اور انسان کے بلند مرتبہ میلانات کو قبول کرنے پر منحصر سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک نامربوط مسئلہ جو انہوں نے خود سے بیگانگی کے نام پر اٹھایا ہے، جب تک کوئی فطرت نہ ہو خود سے بیگانگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آخر وہ خود ہے کیا کہ خود سے بیگانہ ہو؟ پہلے تو اپنے آپ کو پہچان، پہلے تو مجھے پہچنوا کہ خود کیا ہے، بعد میں کہہ کہ اس کی فلاں چیز اس سے بیگانہ ہوگئی ہے۔ خود کو پہچانے بغیر یہ خود سے بیگانگی کی بات کرتے ہیں۔ جب تک ہم انسان کے لیے ایک واقعیت، ایک خودی، ایک ماہیت کے قائل نہ ہوں خود سے بیگانگی کے قائل نہیں ہوسکتے۔(13) وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خود سے بیگانگی یا با خود بیگانگی کی بحث معارف اسلامی میں ہزار سال پرانی ہے۔( (14

مولوی نے اس روحانی حالت کو اپنے اشعار میں بیان کیا ہے:

در زمین دیگران خانہ مکن

کار خود کن کار بیگانہ مکن

کیست بیگانہ تنِ خاکیِ تو

کز برای اوست غمناکی تو

تا تو تن را چرب و شیرین می دھی

گوہر جان نیابی فربہی

گرمیانِ مشک تن را جا شود

وقت مردن گند آن پیدا شود

مشک را بر تن مزن بر جان بمال

مشک چہ بود، نام پاک ذوالجلال( (15

دوسروں کی زمین میں گھر نہ بنا، اپنا کام کر غیر کا نہ کر، غیر کون ہے؟ تیرا خاکی بدن کہ جس کے لیے تیرا سارا غم ہے۔ جب تک تو اپنے بدن کو چربی اور شیرینی دیتا رہے گا تیری جان و روح صحت مند نہ ہوگی۔ اگر بدن خوشبو میں بسا رہے گا تو موت کے وقت اس کی بدبو ظاہر ہوجائے گی۔ خوشبو کو بدن پر نہیں روح پر مل، اور یہ خوشبو کیا ہے، نامِ پاک ذوالجلال!

مذکورہ بالا وضاحتوں سے یہ امر روشن ہوجاتا ہے کہ خود سے بیگانگی کے اسلامی تصور میں اور ہیگل کے تصور میں بہت فرق ہے۔ ہیگل، فرئر باخ، مارکس اور اینجلز کا نظریہ تھا کہ دین انسان کو خود سے باہر لے جاتا ہے اور انسان کی نجات اس میں ہے کہ دین کو اپنی زندگی سے نکال دے لیکن استاد کے نظریہ کے مطابق جو قرآن سے ماخوذ ہے، انسان جب تک اللہ کی طرف حرکت کرکے خود کو اور اپنی فطرت کو نہیں پالیتا وہ خود سے بیگانہ ہوتا ہے۔


۳۔فطرت اور اخلاقی اقدار کی جاودانی

استاد کی رائے میں نظریہ فطرت اخلاقی اصولوں کے دائمی ہونے کی بنیاد ہے۔ شہید مطہری یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کلی اچھائی اور برائی کا ریشہ اور بنیاد کیا ہے اور کہتے ہیں: انسان میں دو خود ہیں، عِلوی خود اور سفلی خود، اس معنی میں کہ ہر فرد ایک ایسا وجود ہے جس کے دو درجے ہیں۔ ایک درجے میں وہ حیوان ہے، تمام دیگر حیوانوں کی طرح اور دوسری درجے میں وہ ایک عِلوی حقیقت کا حامل ہے۔ اپنی ملکوتی خود کے لحاظ سے انسان بے شمار کمالات رکھتا ہے، حقیقی کمالات، قراردادی و فرضی نہیں۔ وہ کام جو انسان کے معنوی و روحانی کمال سے مناسبت رکھتا ہو وہ عِلوی اور باقیمت ہے اور جس کام کا ہمارے عِلوی پہلو سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ ایک عام کام ہوجاتاہے۔ جس میں انسانوں کے نفس کا کمال ہے اس میں وہ مشابہ پیدا کیے گئے ہیں اور جب وہ ایک جیسے پیدا کیے گئے ہیں تو ان کی پسند بھی ہم رنگ ہوگی اور اس حوالے سے ان کا نقطہ نظر بھی ایک ہوگا یعنی اس پہلو سے سب انسانوں کے لیے صعودی کمال اور روحانی کمال مشابہ صورت کا حامل ہوگا۔ا س طرح اُن کے کے لیے پسندیدہ امور، خوبیاں، بدیاں بھی یکساں، کلی اور دائمی ہوں گی اور تمام اخلاقی فضائل کی توجیہ بھی اس صورت میں کی جائے گی چاہے وہ اجتماعی ہوں یا غیر اجتماعی مثلا صبر، استقامت وغیرہ۔(16) استاد کی نظر میں یہ نظریہ تمام اخلاقی اصولوں کی توجیہ کرسکتا ہے۔

استاد مطہری نے اپنی تحریروں میں بارہا عِلوی و سفلی خود پر زور دیا ہے اور وہ انہیں اخلاقی امور میں امتیاز کا معیار قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم اصولی طور پر اچھائی اور برائی کے وجود کو قبول کرتے ہیں لیکن کون سا خود کسے پسند کرتا ہے سفلی خود یا عِلوی خود، جسے انسان کا عِلوی خود پسند کرے وہ اخلاق ہے اور اسکی قیمت ہے اور یہ جو انسان اخلاق کے لیے ایک عِلوی خود کا وجود محسوس کرتا ہے اس کی بنیاد یہی ہے۔( (17

انسانی فطرت، اخلاق کے نسبی ہونے کا جواب ہے

استاد کی نظر میں نظریہ فطرت تمام انسانوں میں ثابت و مشترک اقدار کا اثبات کرتا ہے اور اس طرح ایک اخلاقی مکتب کی بنیاد بن سکتا ہے، ایسے اخلاقی مکتب کی جو ثبات، اطلاق اور جاوداں ہونے کو نظریہ فطرت کا رہینِ منت جانتا ہے۔ اس نظریے سے اخلاق کے نسبی ہونے کا نظریہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ اس بارے میں وہ مزید کہتے ہیں انسان فطری طور پر اخلاقی کاموں کو باشرف سمجھتا ہے۔(18) ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان اس لحاظ سے کہ انسان ہے کچھ اخلاقیات کا حامل ہے اور یہ اخلاقیات انسان کے بدوی اور ابتدائی دور پر بھی اسی طرح صادق ہیں جس طرح اس کے صنعتی تہذیب کے دور پر۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان اخلاق کا بھی قائل ہو اس کے ساتھ اخلاق کو متغیر اور نسبی بھی جانے۔(19) شہید مطہری کی رائے میں اخلاقی میلانات اور کام اجتماعی ضروریات وغیرہ سے پیدا نہیں ہوتے۔ گہری فکر کے ساتھ استاد اس نظریے کو رد کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ اس طرح کا فہم اخلاق کے نسبی ہونے کے نظریے پر منتج ہوتا ہے کیونکہ اجتماعی حالات اور عوامل کے بدل جانے سے اخلاقی حکم بھی بدل جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ لہٰذا سچائی اور صداقت کا اصول پائیدار اور اخلاقی اصولوں میں سے ہے جو زمان و مکان کے بدلنے سے نہیں بدلتاجو کچھ بدلتا ہے وہ اس کے مصادیق ہیں۔ یہ اثبات اصول فطرت کی بنیاد پر ہے کیونکہ انسان کی فطرت ثابت ہے اخلاقی اصول بھی جنہیں معیار فطرت پر پرکھا جاتا ہے جاوداں اور ثابت ہیں۔

انسان میں اخلاقی حسّں کا وجود

استاد مطہری کا نظریہ یہ ہے کہ انسان میں اخلاقی بنیاد کو اس خاص میلان میں تلاش کیا جانا چاہیے جو اس کے وجود کی گہرائیوں میں مخفی ہے۔ انسان کے میلانات میں سے ایک اخلاقی حس کی طرف میلان ہے۔ بعض انسانی میلانات منفعت اور فائدے کے لیے ہوتے ہیں اور انسان جو امور انجام دیتا ہے وہ اس فائدے کے لیے ہوتا ہے جو ان میں نہاں ہوتے ہیں مثلاً وہ وسائل جو اس کی مادی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ انسان کا منفعت کی طرف میلان اس کی خود محوری ہی ہے۔ ایسے امور انسانی زندگی کی حفاظت اور بلندی کے عامل ہوتے ہیں۔ البتہ ایسے امور بھی ہیں کہ انسان جن کی طرف میلان رکھتا ہے لیکن اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی منفعت ہے بلکہ فضیلت اور عقلی خیر کی وجہ سے۔ منفعت حسی خیر ہے، جبکہ فضیلت عقلی خیر، مثلاً انسان کا سچائی، تقویٰ اور پاکیزگی کی طرف میلان اور ان کے مدمقابل امور سے تنفر اور دوری۔ استاد مطہری کی رائے ہے کہ ایسی اقدار کی انسانی وجود کے اندر تلاش کرنی چاہیے اور اقدار کا وطن اور مسکن انسانی نفس ہے۔ تمام اقدار کا ریشہ خود نفس انسان میں ہے۔ وجود کی یہ قابلیت اور خاص طرز بھی انسان کے گوہر مجرد و ملکوتی اور غیرمادی نفس سے مربوط ہے کہ جو اس کے نفس میں ودیعت کی گئی ہے اور روح انسان وجود کی وہ نحو اور طرز ہے جو قدر آفریں اور قیمت پانے والی ہے اور جسے اقدار کی ہدایت کی گئی ہے اور انسان حسب فطرت اخلاقی امور کو باشرف جانتا ہے۔ (20)

اعتقاد پر اخلاق کا اثر اور اس کے برعکس

شہید مطہری اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ اعتقاد اخلاق اور عمل پر اثرانداز ہوتا ہے اور اخلاق و عمل بھی اپنے مقام پر اعتقاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اخلاقی و عملی روحانیت یا مادیت پوری طرح اعتقاد پر اثرانداز ہوتی ہے اور اس کے برعکس مادی یا غیرمادی اعتقاد بھی اخلاق و عمل پر تاثیر رکھتے ہیں۔ محکم اعتقاد کے لیے ہم آہنگ اخلاقی و عملی فضا فراہم کی جانا چاہیے اور الہٰی اعتقاد مناسبت رکھنے والی اخلاقی و دینی فضا ہی میں استحکام پاتا اور پائیدار رہتا ہے۔ دوسری صورت میں اخلاقی مادیت بتدریج اسے فرسودہ کردیتی ہے اور خود سے ہم آہنگ اعتقاد کو وجود میں لے آتی ہے اور روحانی اخلاق و عمل کے ختم ہوجانے کا سبب بنتی ہے۔ (21)

ایک نکتہ: استاد کی نظر میں فطری دین اخلاق کی بنیاد بن سکتا ہے اور اگر اخلاق کامل طور پر عملی شکل اختیار کرنا چاہے تو اسے دین جیسے محکم سہارے کی ضرورت ہے۔

۴۔معرفت دین

دین شناسی میں بہت سے ایسے شبہات اور کلامی مسائل ہیں کہ استاد مطہری نظریہ فطرت کی بنیاد پر جن کا جواب دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

دین کا فطری ہونا

استاد مطہری نے مختلف جگہوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اپنی سرشت اولیہ کی وجہ سے اللہ کی طرف میلان رکھتا ہے، ایسا میلان جو اس کی خلقت کے اندر سے ظہور میں آیا ہے اور جس نے اس کی عِلوی خود سے ارتباط پیدا کیا ہے۔ استاد کا یہ نظریہ کہ جو نظریہ فطرت کے پرتو میں پیدا ہوا ہے ان نظریات کو ردّ کردیتا ہے جو دین کو جہالت اور خوف وغیرہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ثابت کرتا ہے کہ دین کا منبع انسان کے باہر نہیں ہے۔ (22)

فطرتِ ثابت، دینِ واحد

اگر انسان کی کوئی ثابت و مشترک فطرت ہو تو اس کے رشد اور نشوونما کے لیے ایک مستقل اور مشترک پروگرام کی ضرورت ہے۔ لہٰذا استاد کی نظر میں قرآن ادیان کا قائل نہیں بلکہ وہ ایک ہی دین کی طرف دعوت دیتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: قرآن و حدیث میں دین کہیں بھی جمع کی صورت میں نہیں آیا کیونکہ دین فطرت ہے، راستہ ہے اور ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی سرشت میں ہے۔ انسان کی تخلیق مختلف صورتوں میں نہیں ہوئی اور تمام انبیا کے احکامات کی بنیاد حسّںِ فطری کو بیدار کرنے پر استوار ہے اور حسّںِ فطری و فطرت انسانی کا تقاضا مختلف طرح کا نہیں ہے۔(23) استاد کا یہ نظریہ دینی پلورلزم یاکثرت ادیان کے نظریے کو ردّ کردیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ دین زمان و مکان کے بہت زیادہ اختلاف کے باوجود ایک ہے اور حقیقت واحد کا تقاضا بھی ایک ہی ہوتا ہے۔

فطرت جامعیت کا راز ہے

دین کے فطری ہونے سے آسمانی دین کی جامعیت اور دوام کا راز جانا جاسکتا ہے دین کو تمام اصلی اور فطری ضروریات کا کفیل ہونا چاہیے اور اصلی و فطری ضروریات چونکہ پائیدار ہیں آسمانی شریعت و دین کو بھی پائیدار ہونا چاہیے۔ (24)

فطرت کی شریعت سے ہم آہنگی

اگر فطرت شریعت کی جامعیت اور جاودانی کا راز ہے تو اس کا نتیجہ ان دونوں کے مابین ہم آہنگی کی صورت میں نکلنا چاہیے۔ دراصل انسانی تخلیق میں دو طرح کی ہدایت موجود ہے اور دونوں طرح کی ہدایت سے حکمت الہٰی کی تجلّی ہوتی ہے۔ انسان کی ہدایتِ تکوینی جو فطرت انسانی کی صورت میں متشکل ہوتی ہے اور دوسری اللہ کی ہدایتِ تشریعی جس نے وحی و نبوت کی صورت میں عملی شکل اختیار کی ہے، یہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ شریعت کا بیج فطرت کی قابلِ کاشت زمین میں بویا گیا ہے اور ان دونوں کی وجہ سے انسانی وجود کے درخت پر ثمرِ ہدایت پیدا ہوتا ہے۔ درحقیقت فطری و تکوینی ہدایت کا سرمایہ دو منظم سطحوں پر ہوتا ہے کہ جن میں سے ایک دوسرے کے لیے راہ ہموار کرتی ہے یعنی فطرت نبوت و شریعت کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ دراصل دو مسلم اصول موجود ہیں کہ جن کا قطعی نتیجہ نظام تشریع و تکوین کے مابین ہم آہنگی کا موجود ہونا ہے۔ یہ دو اصول یہ ہیں:

۱۔ نظام تکوین و تشریع کی ساخت اور اس کا انجینئرنگ ورک اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔

۲۔اللہ تعالی علم، قدرت، رحمت اور حکمت کے لحاظ سے کامل ترین اور برترین موجود ہے۔

۳۔مذکورہ اصول بطور فرض مان لیا جائے تو پھر نظام تشریع و تکوین میں ناہم آہنگی کا لازمی نتیجہ تناقض ہے جو محالاتِ ذاتی میں سے ہے۔

۴۔جو امر محالاتِ ذاتی میں سے ہے یا جس کا لازمی نتیجہ محالِ ذاتی ہے وہ ہرگز وجود پذیر نہ ہوگا۔

ان دونوں کی ہم آہنگی کی سب سے زیادہ روشن دلیل یہ آیتِ فطرت ہے: فاقم و جہک للدین حنیفا فطرت اللّٰہ التی فطر النّاس علیہا لا تبدیل لخلق اللّٰہ ذالک الدین القیم ولکن اکثر النّاس لا یعلمون (25) یعنی اپنے رخ کو سیدھے دین کی طرف رکھیں، اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی خلقت تبدیل نہیں ہوتی۔ یہ پائیدار دین ہے لیکن اکثر انسان نہیں جانتے۔ جملہ ”فطرت اللّٰہ التی فطر النّاس علیہا“ اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ دین کی جڑ فطرت میں ہے اور شریعت فطرت کی بنیاد پر استوار ہے۔(26) اس وضاحت کے بعد ہم فطرت و شریعت کے مابین چند ہم آہنگیوں کو بیان کرتے ہیں۔


بعض ہم آہنگیاں

1۔ دونوں یعنی دین (شریعت) و فطرت جہانِ خلقت کے مصادیق میں سے ہیں اور تحدی و مقابلے کی دعوت اسلام اور انسان کے بارے میں دی گئی ہے:

قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یاتوا بمثل ہذا القرآن لا یاتون بمثلہ (27) یعنی کہیے کہ اگر انسان اور جن اکٹھے ہوجائیں تو بھی وہ اس قرآن کا مثل نہیں لاسکیں گے۔

ان الذین تدعون من دون اللّٰہ من یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (28) یعنی تم اللہ کے سوا جنہیں پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے لیے سب اکٹھے ہوجائیں۔

2۔شریعت بھی نور اور فطرت بھی نور، ظلمتِ بطلان کا ان دونوں میں سے کسی سے گذرنا ناممکن ہے:

لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ (29) یعنی باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔

3۔شریعت بھی جاوداں اور ابدی ہے اور فطرت بھی، دوسرے لفظوں میں نہ دین ختم ہونے والا ہے اور نہ فطرت زوال پذیر ہے بلکہ دونوں اللہ کی بقا کے ساتھ باقی ہیں، کہ فرمایا: لا تبدیل لخلق اللّٰہ (30) یعنی اللہ کی خلقت تبدیل نہیں ہوتی۔

4۔شریعت بھی توحید کی داعی ہے اور فطرت بھی توحید کی طرف دعوت دیتی ہے اور دونوں کی دعوت ایک ہی ہے۔

5۔شریعت و فطرت دونوں کلمات الہٰی میں سے ہیں۔ ایک تشریعی کلام ہے تو دوسرا تکوینی کلام۔

6۔شریعت و فطرت دونوں حق ہیں۔ و انزلنا الیک الکتاب بالحق۔(31) یعنی اور ہم نے تجھ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی نیز فرمایا خلق السموات و الارض بالحق(32) (ترجمہ) اس کے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ جبکہ فطرت بھی، خلقت کے مصادیق میں سے ہے۔

7۔فطرت بھی ہمہ گیر اور عالمی ہے اور شریعت بھی اور آخرکار فتح و ظفر شریعت اور فطرت دونوں کو نصیب ہوگی اور انسان کی حاکمیت اس کے ہاتھ میں ہوگی۔

8۔انسان میں فطرت کا وجود مخالفِ آزادی ہے اور نزول شریعت بھی آزادی کے منافی نہیں ہے بلکہ دونوں انسان کے آزاد ہونے اور اس کی آزادی پر دلالت کرتے ہیں۔

9۔راہ حقیقت پر فطرت کی طرف رجوع اور لوٹنا شریعت کی طرف رجوع اور لوٹنا ہی رہا ہے، جیسا کہ راہِ حقیقت شریعت کی طرف رجوع اور اس پر ایمان فطرت کی طرف رجوع اور ایمان ہے کیونکہ شریعت پر ایمان لانے والا اور اس کا عارف، فطرت پر ایمان لانے والا ہے اور فطرت پر ایمان لانے والا شریعت پر ایمان لانے والا ہے۔

10۔دین بھی عمیق،گہرا اور بے انتہا ہے اور اس میں چھپے ہوئے معارف وسیع اور پھیلے ہوئے ہیں اسی طرح دل بھی وسیع اور جامع معالم و معارف پر حاوی ہے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ”ظاہرہ ا نےق اور باطنہ عمیق“ (33) شریعت و فطرت دونوں پر صادق ہے۔

11۔ جس طرح کوئی شریعت روحی کے افکار سے بہرہ مند ہوگا اسی طرح وہ فطرت کی آگاہیوں اور افکار سے فیض یاب ہوگا۔ ”ان ہذہ القلوب اوعیة فخیرہا اوعاہا“ (34)

12۔شریعت کا وجود بھی حیات انسانی کے ذخیرے میں ضروری ہے اور فطرت بھی انسان کے مرکز حیات میں واجب ہے اور انسان کی طرف سے شریعت و فطرت کی یہ ضرورت خود ذاتی اور حقیقی ہے۔

13۔مشکلات، شبہات اور تحیرات کے موقع پر قرآن و دین کی طرف بھی رجوع کیا جاسکتا ہے اور دل کی طرف بھی:”فعلیکم بالقرآن“ (35) اور ” علیکم انفسکم“((36

14۔دین و فطرت میں ہم آہنگی کے آثار

انسان کو اپنی زندگی میں ایک دین کی ضرورت ہے اگرچہ وہ عقلی و علمی بلوغ کی کتنی ہی بلندی پر موجود ہو کیونکہ وہی خدا جس نے عقل کو پیدا کیا اور جس نے اسے کمال پذیر قرار دیا اس نے فکری و روحانی سرمایوں کے حصول کمال اور عملی شکل اختیار کرنے کے لیے عامل بھی نازل کیا تاکہ انسان کی قلبی فطرت شریعت و دین کے زیر سایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ دوسری طرف دین کی ضرورت اور دین کی طرف میلان کو بھی اس نے انسان کے لیے فطری قرار دیا تاکہ دینی میلان اور دین کی قبولیت فطری ہو اور دل کا رخ دین کے رخ کی طرف ہو: فاقم وجہک للدین حنیفا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں مذہبی ایمان کو نظام خلقت اور کتاب آفرینش سے ایک طرح سے ہم آہنگ جانا ہے: افغیر دین اللّٰہ یبغون ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعا و کرہا و الیہ یرجعون ۔(37) (ترجمہ) کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور کی تلاش میں ہیں جبکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خوشی یا ناگواری سے اس کے حضور سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے اور انہیں اسی کی طرف لوٹ جانا ہے؟

فطرت درحقیقت خود ایک فلسفہ زندگی اور جامع ثقافت ہے، یہ جاوداں اور خالص ہے اور انسانی زندگی کی بنیاد شمار ہوتی ہے کہ انسان اگر توحیدی راستے پر قدم اٹھائے تو وہ یقینی طور پر دین و شریعت کے راستے پر بھی ہوگا کیونکہ فطرت و دین کے مابین کوئی تباین اور غیریت نہیں ہے۔ پس چونکہ فطرت ہمیشہ کے لیے ہے اس لیے شریعت و دین بھی دائمی ہیں۔

ایک نکتہ: استاد کے نقطہ نظر سے فقط نظریہ فطرت ہی تمام زمانوں میں شریعت کے انسان کے ہمراہ ہونے کی تفسیر کرسکتا ہے۔

آخری بات

اس مقالے میں کوشش کی گئی ہے کہ متکلم فرزانہ استاد مطہری کی نظر سے نظریہ فطرت کی کلامی اہمیت کو واضح کیا جائے۔ فطرت کی بحث اس سے وسیع تر ہے کہ ایسے محدود مقالے میں اس کے تمام کلامی زاویوں پر بات کی جاسکے۔ ہم نے صرف چند کلی محوروں پر بات کی ہے کہ جن کی طرف اس رحیل عزیز نے توجہ کی ہے۔ اس مقالے میں جس دقیق اور گہری توجہ کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اعتقادی محاذ کے نگہبان کی حیثیت سے استاد مطہری نے نظریہ فطرت کی طرف جو رخ کیا ہے اور اس کی جو راہ انہوں نے پائی ہے وہ نظام آفرین ہے اور اس کی بنیاد اور مبنا موجود ہے اس طرح کہ وہ معرفتِ خدا، معرفت انسان، دین شناسی، اخلاقی بنیادوں وغیرہ جیسے بہت سے کلامی مسائل کو نظریہ فطرت پر استوار قرار دیتے ہیں اور اس موضوع کے حوالے سے بعض پیدا ہونے والے ابہامات اور سوالات کا انہوں نے کامیابی سے جواب دیا ہے۔

امید ہے کہ استاد کی نظریے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا واضح جواب اس مقالے میں دے دیا گیا ہے۔

 

حواشی

1۔ذبیح اللہ جوادی، الفبای فلسفہ جدید، تہران: ابن سینا، ص 111

2۔مطہری، مسئلہ شناخت، تہران: صدرا، 1368 ش، ص 242

3۔مطہری، فلسفہ اخلاق، تہران: صدرا، 1366ش،ص 187

4۔مطہری، مجموعہ آثار، ج 3، تہران: صدرا، 1376ش، ص 168

5۔علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج 3، تہران: دارالکتب الاسلامیہ، ص 281

6۔امام خمینی، چہل حدیث، تہران: رجائ، 1368 ش، ص 180

7۔مطہری، مجموعہ آثار، ج3، ص 23

8۔مطہری، نقدی بر مارکسیسم ، تہران: صدرا، 1363ش، ص 249

9۔محمد حسین طباطبائی، اصول فلسفہ و روش رئالیسم، تہران: صدرا، س ن، ص 68

10۔مطہری، مجموعہ آثار، ج 3، ص 45

11۔مطہری، فطرت، تہران: صدرا، 1376ش، ص 17

12۔ایضاً، ص 168

13۔ایضاً، ص 165

14۔ایضاً

15۔مولوی، مثنوی معنوی، تہران: خاور، س ن، دفتر دوم

16۔مطہری، نقدی بر مارکسیسم، ص 208

17۔ایضاً

18۔مطہری، فلسفہ اخلاق، ص 126

19۔مطہری، مجموعہ آثار، ج 3، ص 29-516

20۔مطہری، فلسفہ اخلاق، ص 126

21۔مطہری، علل گرایش بہ مادیگری، تہران: صدرا، 1385ش، ص 225

22۔مطہری، فطرت، ص 16-214

23۔ایضاً، ص 26

24۔مطہری، فلسفہ اخلاق، ص 143

25۔سورہ روم: 30

26۔علی ربانی، فطرت و دین، تہران: موسسہ فرہنگ دانش و اندیشہ اسلامی، 1380ش، ص 189

27۔سورہ بنی اسرائیل: 88

28۔سورہ حج: 13

29۔سورہ فصلت: 42

30۔سورہ روم: 30

31۔سورہ مائدہ: 48

32۔سورہ تغابن: 3

33۔نہج البلاغہ، خطبہ 18

34۔ایضاً، حکمت: 139

35۔کلینی، الکافی، ج 4

36۔سورہ مائدہ: 105

37۔سورہ آل عمران: 83

ہم سے رابطہ

ایڈریس: البصیره 40، بیلا روڈ، G/10-1، اسلام آباد

ای میل: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

فون: 2350969-051