حروف مقطعات(۱)

 مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ

ثاقب اکبر

قرآن حکیم میں 114میں سے 29سورتیں ایسی ہیں جن کے شروع میں حروف اس طرح سے آئے ہیں کہ جن سے بظاہر کوئی لفظ نہیں بنتا اور انھیں الگ الگ کرکے حروف کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے سورہ بقرہ کے آغاز میں اآمآ اسے الف، لام، میم کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم حروف مقطعات کی حقیقت اور اس کے مطالب کی تفصیلی بحث میں وارد ہوں، قرآن حکیم میں حروف مقطعات کے حوالے سے چند ضروری معلومات پیش کرتے ہیں:

 چند ضروری معلومات

۱۔            بعض سورتوں کے آغاز میں آنے والے حروف مقطعات ایک ایک ہیں جیسے ن، ق وغیرہ۔ بعض میں دو دو ہیں جیسے حٰمٓ،یٰسٓ۔بعض سورتوں میں تین تین حروف آئے ہیں جیسے اآرٰ، اآمآ وغیرہ۔ اسی طرح بعض سورتوں کے شرو ع میں چار حروف آئے ہیں جیسے اآمآآ،اآمآرٰاور بعض سورتوں کے شروع میں پانچ حروف پر مشتمل حروف مقطعات آئے ہیں جیسے سورہ مریم کے آغاز میں کٓھٰیٰعٓصٓ ۔  

۲۔            قرآن حکیم میں جن سورتوں میں بھی یہ حروف آئے ہیں وہاں بسم اللہ کے بعد ہمیں انہی سے سابقہ پڑتا ہے۔ گویا یہ ہر جگہ سورت کے آغاز میں آئے ہیں۔ سورتوں کے بیچ میں اس طرح کے حروف ہرگز نہیں آئے۔

۳۔            29سورتوں کے شروع میں آنے والے ان حروف کے بعد عام طور پر قرآن حکیم کی عظمت اور مقاصد کو بیان کرنے والی کوئی آیت آئی ہے۔ 24سورتوں میں تو صراحت سے قرآن حکیم کا ذکر ہے لیکن دیگر سورتوں میں بھی کسی نہ کسی صورت میں وحی، رسالت اور کتاب وغیرہ کے حوالے سے ہی کوئی بات کی گئی ہے جو بالآخر قرآن حکیم سے مربوط ہو جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ہم چند مقامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اآمآO ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ O

اآرٰ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ O

یٰسٓO وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِO

وہ حروف مقطعات جن کے بعد واضح طور پر قرآن حکیم کا ذکر نہیں آیا ان کی ایک مثال سورہ مریم کی یہ آیات ہیں۔

کٓھٰیٰعٓصٓ O ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا O اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا O

ہم دیکھتے ہیں کہ ان آیات میں حروف مقطعہ کے بعد وحی و نبوت کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیگر وہ سورتیں جن میں حروف مقطعہ کے بعد صراحت سے قرآن حکیم کا ذکر نہیں آیا وہ عنکبوت،روم اور قلم ہیں۔

۴۔            تاریخ نزول اور شان ہائے نزول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مشرکین یا دیگر مخالفین نے حروف مقطعہ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس امر سے مفسرین نے مختلف نتائج اخذ کیے ہیں جن کا ذکر ہم آئندہ سطور میں کریں گے۔

۵۔            قرآن حکیم وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس میں حروف مقطعہ دکھائی دیتے ہیں۔ دیگر مقدس کتابیں جس حالت میں بھی ہیں ان میں اس طرح کے حروف دکھائی نہیں دیتے۔ گویا اس امر میں آسمانی کتابوں میں قرآن منفرد ہے۔

۶۔ وہ 29سورتیں جن کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں ان کے نام ہیں ہیں:

بقرہ، آل عمران، اعراف، یونس، ھود، یوسف، رعد،ابراھیم،حجر، مریم، طہ، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت،روم، لقمان، سجدہ، یسٓ، ص، مومن، فصلت، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف،ق اور قلم۔

۷۔            29سورتیں جن کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں ان میں سے 2 مدنی ہیں اور باقی 27مکی ہیں۔

۸۔            بعض حروف مقطعات کا دیگر سورتوں میں تکرار ہوا ہے جب کہ بعض کا بالکل تکرار نہیں ہوا۔

۹۔            مکررات کو حذف کردیا جائے تو حروف مقطعہ 14بنتے ہیں جو یہ ہیں:

ا، ح، ر، س، ص، ط،ع،ق،ک،ل،م ،ن،ہ،ی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف مقطعہ عربی زبان کے 28حروف میں سے نصف ہیں۔

۱۰۔          حروف مقطعہ سے بامعنی جملے بنانے کی کوشش کی بھی ایک تاریخ ہے۔ ہر کسی نے اس سلسلے میں جو بھی کوشش کی ہے وہ اپنے ذوق اور مذہب کے پیش نظر کی ہے۔ چنانچہ حروف مقطعہ سے بنائے جانے والے اس جملے کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے:

’’صراط علی حق نمسکہ‘‘

اس کا مفہوم ہے:

علی کا راستہ برحق ہے ہم اس سے تمسک رکھتے ہیں۔

حروف مقطعہ سے جملہ سازی کی اس روش پر تبصرہ کرتے ہوئے آیت اللہ جوادی آملی لکھتے ہیں:

این ویژگی گرچہ لطیف است، لیکن دلیل معتبر آن را تایید نمی کند، افزون بر آن کہ، با این گونہ روشھا نمی توان عقاید و مبانی دینی را اثبات کرد، زیرا شیوہ ای است نقد پذیر، چنانکہ، آلوسی می گوید

از ظرایف این است کہ شیعیان برای اثبات خلافت حضرت علی (علیہ السلام) از حروف مقطعہ، پس از حذف مکررات آنھا، جملہ صراط علی حق نسمکہ را ساختہ اندواھل سنت نیز می توانند برای تایید راہ خود با ھمین حروف جملاتی مانند صح طریقک مع السنہ را بسازند، یعنی، راہ و روش تو در صورت ھماھنگی با سنت (برداشت خاص اھل سنت از اسلام) صحیح است ۔(۱)

ما باید بہ گونہ ای سخن بگوییم کہ نقدپذیر نباشد، سخنی کہ پشتوانہ معقول یا منقول نداشتہ باشد با نقد مستدل بہ نحو نقض یا منع یا معارضہ فرو می ریزد۔(۲)

یہ خصوصیت اگرچہ لطیف ہے لیکن دلیل معتبر اس کی تائید نہیں کرتی۔ مزید برآں ایسے طریقوں سے عقائد اور دینی بنیادوں کو ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ طریقہ کار قابل نقد ہے۔ لہٰذا آلوسی کہتے ہیں:

’’یہ بات ظرائف میں سے ہے کہ شیعوں نے حضرت علیؑ کی خلافت کو ثابت کرنے کے لیے حذف مکررات کے بعد حروف مقطعات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ جملہ بنایا ہے’’صراط علی حق نمسکہ‘‘۔ اہل سنت بھی اپنے طریقے کی تائید کے لیے اس طرح کے جملے بنا سکتے ہیں مثلاً: ’’صح طریقک مع السنہ‘‘ یعنی سنت کے ساتھ تیرا راستہ صحیح ہے۔

ہمیں اس طرح سے بات کرنی چاہیے کہ جو قابل نقد نہ ہو۔ ایسی بات جس کی کوئی معقول یا منقول بنیاد نہ ہو وہ مستدل تنقید کے ساتھ نقض، منع یا معارضے کی صورت میں ختم ہو جاتی ہے۔

حروف مقطعات کے بارے میں مختلف اقوال

حروف مقطعات کے بارے میں مختلف علماء کے مختلف اقوال ہیں اور بعض نے ایک سے زیادہ احتمالات بیان کیے ہیں۔ ہم ذیل میں ان اقوال کا خلاصہ اور ان کے بارے میں مختلف آراء پیش کرتے ہیں۔

۱۔ یہ حروف متشابہات میں سے ہیں

یہ حروف قرآن حکیم کے متشابہات میں سے ہیں۔ ان کے معنی صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جیساکہ سورہ آل عمران میں فرمایا گیا ہے:

وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ۔۔۔(۳)

متشابہات کی تاویل صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

ہمارے نزدیک مذکورہ بالا آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے تاہم یہ مقام اس پر گفتگو کا نہیں۔

اس قول کے بارے میں بات کرتے ہوئے علامہ طبرسی کہتے ہیں:

اختلف العلماء فی الحروف المعجمۃ المفتتحۃ بھالسور فذھب بعضھم الی أنھا من المتشابھات التی استأثر اللہ تعالی بعلمھا ولا یعلم تأویلھا الا ھوھذا ھوالمروی عن أئمتنا علیھم السلام وروت العامۃ عن أمیر المومنین علیہ السلام أنہ قال ان لکل کتاب صفوۃ وصفوۃ ھذا الکتاب حروف التھجی وعن الشعبی قال: للہ فی کل کتاب سر و سرہ فی القرآن سائر حروف الھجاء المذکور فی أوائل السور۔(۴)

وہ الگ الگ حروف جو سورتوں کے شروع میں آئے ہیں ان کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ یہ متشابہات ہیں جسے اللہ نے اپنے علم سے مختص کیا ہے اور اس کی تاویل کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہی بات ہے جو ہمارے آئمہ علیہم السلام سے بھی مروی ہے اور عامۃ المسلمین نے بھی امیرالمومنین علی ؑ سے اسے روایت کیا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ ہر کتاب کا ایک نچوڑ ہوتا ہے اور اس کتاب کا نچوڑ یا اعلیٰ ترین چیز یہ حروف تہجی ہیں اور شعبی سے روایت ہے کہ انھوں نے کہاہر کتاب میں اللہ کا بھید ہے اور قرآن میں اللہ کا بھیدیہ حروف مقطعہ ہیں جو سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔

۲۔حروف مقطعہ سورتوں کے نام ہیں

حروف مقطعات جن سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں یہ ان کے نام ہیں اور جن سورتوں میں مشترک حروف مقطعہ آئے ہیں وہ ان کا مشترک نام ہے۔

علامہ طبرسی کہتے ہیں کہ یہ حسن اور زید بن اسلم کا نظریہ ہے۔(۵)

اس سلسلے میں مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ یسٓ،طہ،ص اور ق میں سے ہرکوئی سورتوں کے نام ہیں۔ بعض سورتوں کے نام متعدد ہیں جن میں سے ایک نام حروف مقطعہ کی مناسبت سے ہے ۔اگرچہ متقدمین اور متاخرین میں سے بہت سے مفسرین نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے ۔ تاہم عصر حاضر میں سر سید نے اسی نظریے کو اختیار کرتے ہوئے اسے شر ح و بسط سے بیان کیا ہے۔ ہم ذیل میں اسے نقل کرتے ہیں۔

سرسید کا نظریہ

سرسید اپنی تفسیر القرآن میں ’’اآمآ‘‘ کی تفسیر کے ضمن میں لکھتے ہیں:

(اآمآ) یہ سورت انہی اونتیس سورتوں میں سے ہے جن کو خود خدا نے ان کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ حروف مقطعات ان سورتوں کے نام ہیں جن کے ابتدا میں آئے ہیں اور جو سورتیں باہم کسی قسم کی مناسبت رکھتی ہیں ان کے ایک ہی سے نام مقرر کیے ہیں۔ اب یہاں تین باتیں غور طلب ہیں۔ ایک یہ کہ انہی اونتیس سورتوں کے نام مقرر کرنے کا کیا سبب ہے۔ دوسرے یہ کہ حروف مقطعات سے کیوں ان کے نام مقرر کیے ہیں۔ تیسری یہ کہ جن حروف مقطعات سے ان سورتوں کے نام مقرر کیے ہیں، انہی حروف سے ان کا نام مقرر کرنے کا کیا سبب ہے۔

قرآن مجید پر غور کرنے سے علانیۃ پایا جاتا ہے کہ جس سورت کو خدا تعالیٰ نے قسمّیہ طور پر یا اس طرز کلام پر شروع کیا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے یا یہ خدا کی کتاب ہے، اس مقام پر خدا نے اس سورت کو کسی اسم سے موسوم کیا ہے تاکہ اس کا نام لینے سے اس کے مسمیّٰ پر اس امر کا اطلاق ہو جس کا اطلاق کرنا منظور ہے اور جن سورتوں کو اس طرز کلام سے شروع نہیں کیا ان کا نام رکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

مثلاً اس سورت کا نام جس کی ہم تفسیر کررہے ہیں (اآمآ) ہے۔ اب خدا تعالیٰ نے طرز کلام اس طرح پر شروع کیا ہے کہ یہ سورت خدا کی کتاب کی ہے۔ تو اس نے اس سورت کا نام لیکر کہہ دیا کہ اآمآ یعنی اسکا مسمی وہ کتاب ہے۔ پس جواآمآ اس سورت کا نام ہے مبتدا اور ذلک مبتدا ثانی ہے اور الکتاب اس کی خبر ہے اور یہ مبتدا و خبر مل کر پہلے مبتدا کی خبر ہیں اوراآمآ یعنی الم کا مسمی ذلک الکتاب پر محمول ہے۔

یہ بات بھی صاف ہے کہ اگر ان سورتوں کے نام الفاظ بامعنی سے مرکب ہوتے تو ان معنوں کا جن پر وہ الفاظ دلالت کرتے، ’’ذلک الکتاب‘‘ پر حمل ہونے کا شبھہ پڑتا اور معنی سے قطع نظر کرکے اس کے مسمیٰ کا محمول ہونا بہت کم خیال میں جاتا۔ پس خدا تعالیٰ نے حروف مفردہ کو جو ترکیب کلام کے اصول بھی ہیں اور معانی سے مبرا بھی ہیں اسماء سو راختیار کیا تاکہ بجز مسمےٰ کے محمول ہونے کے اور کوئی احتمال ہی نہ رہے۔

البتہ اس بات کا تصفیہ کہ ان حروف کو اس سورۃ کے نام کے لیے کیوں مخصوص کیا مشکل ہے ۔دنیا میں بھی جو شخص کسی کا کچھ نام رکھتا ہے اور جو مناسبت یا علت اس نام رکھنے کی اس کے دل میں ہوتی ہے، اس کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ پس یہ قرار دینا کہ خدا نے اس مناسبت سے ان حروف مقطعات سے اس سورت کو موسوم کیا ہے، ایک مشکل بات ہے اور ضرور ہے کہ باہم علما کے اس میں اختلاف ہو۔ چنانچہ بہت سااختلاف ہوا بھی ہے۔ یہاں تک کہ بعضوں نے کہا کہ اس مناسبت کا علم خدا ہی کو ہے مگر ہر شخص بقدر اپنی فہم کے اس مناسبت کے بیان کرنے کا بلاشبہ مجاز ہے۔

میری سمجھ یہ ہے کہ بعضی دفعہ اہل عرب حروف مقطعات بولتے تھے اور اس سے اشارہ کسی مطلب کی طرف ہوتا تھا۔ جیسے کہ اس شعر میں ہے:

قلت لھا قفی فقالت لی ق

لا تحتسبی انا نسینا الایجاف

یعنی میں نے اس سانڈھنی سوار عورت سے کہا کہ ٹھیر جا، یہ مت خیال کر کہ میں سانڈھنی ہنکانا بھول گیا ہوں۔ اس نے کہا کہ قاف

یعنی وقفت ٹھیر گئی

میں پس حرف قاف سے پورا کلام ’’وقفت‘‘ کا مراد ہے۔

سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اور سورہ عنکبوت اور سورہ روم اور سورہ لقمان اور سورہ سجدہ، ان سب کے سرے پر اآمآ ہے جو ان سورتوں کا نام ہے۔ ان تمام سورتوں میں خدا تعالیٰ نے احکام الٰہی کی تعمیل اور امر بالمعروف کی تاکید اور لیل و نہار کے اختلاف اور عالم میں جو آیات قدرت کردگار ہیں ان سے خدائے واحد کے وجود پر استدلال کیا ہے اور موت کا اور اس کے بعد کے حالات کا بیان فرمایا ہے اورا سی سبب سے اآمآ سے ان سورتوں کو موسوم کیا ہے تاکہ ان تینوں حرفوں سے ان مطالب عظیمہ کی طرف اشارہ ہو اور انہی مطالب عظیمہ کا ذکر ان سب سورتوں میں تھا ،اس لیے ان سب کو ایک ہی نام سے موسوم کیا۔

علماء اسلام نے رفع التباس کے لیے ان سورتوں کے نام کے ساتھ جن کے متحد نام تھے یا جن میں حروف مقطعات زیادہ تھے یا کسی سورت کے اہم مضمون پر زیادہ وضاحت سے اشارہ کرنے کی غرض سے اور نیز ان سورتوں کے لیے جو کسی نام سے موسوم نہ تھیں اسے یہودی قاعدہ کے مطابق اسی سورت میں سے کوئی لفظ اس سورت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے منتخب کیا جو رفتہ رفتہ بطور ان سورتوں کے نام کے متصور ہونے لگے مگر درحقیقت وہ الفاظ ہیں جو علماء نے ان سورتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اختیار کیے ہیں۔(۶)

شیخ طوسی کا نظریہ

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین میں سے بھی ایک رائے بیان کر دی جائے۔ شیخ طوسی نے اس نظریے کو حروف مقطعہ کے بارے میں دیگر نظریات پر ترجیح دی ہے۔ وہ کہتے ہیں :

واحسن الوجوہ التی قبلت قول من قال: انھا اسماء للسور خص اللہ تعالیٰ بہا بعض السور بتلک کما قیل للمعوذتین: المقشقشتان ، أی تبرء ان من النفاق، وکما سمیت الحمد أم القرآن و فاتحۃ الکتاب۔ ولا یلزم أن لا تشترک سورتان أوتلاث فی اسم واحد، وذلک أنہ کما یشترک جماعۃ من الناس فی اسم واحد، فاذا ارید التمییز زید فی صفتہ، وکذلک اذا أرادوا تمییز السورۃ قالوا: الم ذلک، الم اللہ، الم، وغیر ذلک۔ و لیس لأحد أن یقول: کیف تکون أسماء للسور، والاسم غیر المسمی، فکان یجب ألاتکون ھذہ الحروف من السورۃ، وذلک خلاف الاجماع۔ قیل: لا یمتنع أن یسمی الشیء ببعض مافیہ، ألا تری انہم قالوا: البقرۃ، و آل عمران، والنساء، والمائدۃ، ولا خلاف انھا اسماء للسور و ان کانت بعضا للسور، ومن فرق بین الأشخاص و غیرھا فی ھذا المعنی: فاوجب فی الأشخاص أن یکون الاسم غیر المسمی ولم یوجب فی غیرھا۔۔۔(۷)

حروف مقطعہ کے بارے جو وجوہ بیان کی گئی ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو میں نے قبول کی ہے اور وہ ہے یہ کہنے والے کا قول کہ یہ سورتوں کے نام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بعض سورتوں کو مختص کیا ہے جیسے معوذتین کو المقشقشتان کہا گیا ہے یعنی نفاق سے بیزار دو سورتیں اور جیسے الحمد کو ام القرآن اور فاتحۃ الکتاب کہا گیا ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ دو یا تین سورتوں کا ایک نام نہ ہو جیسے بہت سارے افراد کا ایک نام ہوتا ہے اور جب زید کو پہچاننا چاہیں تو اسے اس کی صفت کے ذریعے سے پہچانیں گے اور جب کسی سورۃ کو پہچاننا چاہیں گے تو یوں کہیں گے الم ذلک، الم اللہ، الم وغیرہ اور کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ یہ سورتوں کے نام کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ اسم کو غیر مسمی ہونا چاہیے پس ضروری ہے کہ یہ حروف سورہ میں سے نہ ہوں اور یہ خلاف اجماع ہے ۔ کہا گیا ہے یہ ممنوع نہیں ہے کہ کسی چیز کا نام خود اسی کے کسی حصے سے ہو۔کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ (بعض سورتوں کو) البقرۃ، و آل عمران، والنساء، والمائدۃکہتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔ حالانکہ یہ الفاظ خود سورتوں کا حصہ ہیں۔ اس مسئلے میں اشخاص اور غیر اشخاص میں فرق ہے۔ اشخاص کے لیے ضروری ہے کہ ان کا نام غیر مسمی ہولیکن غیر اشخاص کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہے۔۔۔

۳۔یہ حروف پورے قرآن کے نام ہیں

یہ حروف پورے قرآن کے نام ہیں۔ جیسے ذکر، فرقان وغیرہ قرآن کے نام ہیں۔ علامہ طبرسی کے مطابق قتادہ کا یہی نظریہ ہے۔

شیخ طوسی نے التبیان میں اس رائے کے بارے میں کہا ہے:

فقال بعضہم انہا اسم من أسماء القرآن ذھب الیہ قتادۃ ومجاھد وابن جریح۔(۸)

بعض نے کہا ہے کہ یہ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ یہی رائے قتادہ، مجاہد اور ابن جریح کی ہے۔

استاد جوادی آملی اس نظریے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کٓھٰیٰعٓصٓ O ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ

گرچہ این احتمال نیز محال عقلی نیست، ولی اثبات آن، دلیل معتبر می طلبد ودلیلی از سوی صاحبان این رأی اراۂ نشدہ است، از این رو از محدودۂ احتمال تجاوز نمی کند۔

اگر این حروف نام قرآن باشد لازمہ اش آن است کہ بتوان بہ جای ھریک از آنھا کلمۂ القرآن یا سایر نامھای قرآن، مانند فرقان یا ذکر، نھاد، مانند این کہ بہ جای ’’کھیعصO ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ ۔۔۔‘‘ بتوانیم بگوییم: ’’القرآن ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ ۔۔۔‘‘ ۔۔۔(۹)

اگرچہ یہ احتمال بھی عقلی لحاظ سے محال نہیں ہے لیکن اس کے ثابت ہونے کے لیے دلیل معتبر کی ضرورت ہے لیکن یہ رائے رکھنے والوں نے اس کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کی لہٰذا اس کی حیثیت ایک احتمال سے زیادہ کچھ نہیں اگر یہ حروف قرآن کے نام ہوں تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی جگہ لفظ ’’القرآن‘‘یا قرآن کے دیگر نام رکھے جا سکیں مثلاً فرقان یا ذکر۔ مثلاً ’’کھیعصOذکر رحمت ربک۔۔۔‘‘میں ہم یوں کہہ سکیں ’’القرآنOذکر رحمت ربک۔۔۔‘‘۔۔۔             

۴۔یہ حروف فکر و عقل کے اول مخلوق ہونے کی طرف اشارہ ہیں

استاد مطہری نے حروف مقطعہ پر بات کرتے ہوئے احتمال کے طور پر ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق فکر وعقل کو خلقت میں مادہ پر تقدم حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں:

در خاتمہ این بحث احتمال دیگری راھم طرح کنم و آن این است کہ بحثی از قدیم تا بہ حال مطرح است کہ در نظام ھستی اول چہ بودہ است؟ یعنی مقدم و موخر کدام است؟ بہ طور کلی در جواب این سوال دو نظر ابراز گردیدہ، برخی می گویند اول کلمہ و سخن بودہ و مقصود شان این است کہ اول اندیشہ و فھم و درک بودہ است۔ زیرا کلمہ و سخن نمایانگر اندیشہ ھستند و سپس مادہ پیدا شدہ۔ و نظر دوم عقیدہ کسانی است کہ بہ تقدم مادہ قائلند۔ یعنی می گویند اول مادہ و طبعیت پدید آمدہ است و پس از تکامل مادہ تدریجاً فھم و شعور و درک پیدا شدہ سپس کلمہ و سخن۔ از این دو نظریہ گویا قرآن اولی را پذیر فتہ۔ زیرا وقتی می خواھد داستان خلقت را بیان کند، می فرماید: ’’ اِِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ‘‘(۱۰)

فرمان او چنین است کہ وقتی ارادہ کند چیزی را، ھمین کہ بگوید، باش! می باشد۔

یعنی اول قول است و سپس سایر مخلوقات والبتہ ناگفتہ پیدا است کہ قول در اینجا تنھا بہ معنای لفظ، ھوا و صوت نیست، بلکہ معنای جامع تروکامل تری دارد۔

بہ نظری رسد کہ خداوند با این حروف مقطعہ، نحوہ شروع کار خودش را بیان می فرماید۔ یعنی قول، سخن واندیشہ برمادہ، جسم و طبیعت تقدم دارد۔(۱۱)

حروف مقطعہ کی بحث کے آخر میں میں ایک اور احتمال پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ قدیم زمانے سے آج تک ایک بحث جاری ہے اور وہ یہ کہ نظام ہستی میں سب سے پہلے کیا تھا یعنی مقدم کیا تھا اور موخر کون؟ کلی طور پر اس سوال کے جواب میں دو نظریات بیان ہوئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سب سے پہلے کلمہ اور قول تھا۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ سب سے پہلے عقل و فکر اور فہم و ادراک تھاکیونکہ کلمہ اور قول دراصل فکر کو بیان کرتا ہے اور اس کے بعد مادہ پیدا ہوا دوسرا نظریہ ان لوگوں کا ہے کہ جومادہ کے تقدم کے قائل ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ پہلے مادہ اور عالم طبیعت وجود میں آیا۔ پھرمادہ کے تدریجاً کامل ہونے سے فہم و شعور اور ادراک پیدا ہوا، پھر کلمہ اور قول کی باری آئی۔ ان دو نظریات میں سے گویا قرآن نے پہلے نظریے کو قبول کیا ہے کیونکہ جب وہ انسان کی خلقت کو بیان کرتا ہے تو فرماتا ہے’’ اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے‘‘۔ یعنی پہلے قول ہے اور پھر دیگر مخلوقات ۔البتہ یہ بات کہے بغیرنہ رہ جائے کہ قول سے یہاں مراد صرف لفظ ،ہوا اور آواز نہیں بلکہ اس کا جامع تر اور کامل تر معنی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حروف مقطعہ کے ذریعے اپنے امر کے آغاز کو بیان فرمایا ہے۔ یعنی قول، سخن اور فکر کو مادہ، جسم اور عالم طبیعت پر تقدم حاصل ہے۔

شاید عجیب نہ ہو کہ ہم استاد مطہری کی مذکورہ بالا بات کی تائید کے لیے سورہ رحمن کی ان ابتدائی آیات کو بھی ذکرکریں:

اَلرَّحْمٰنُ O عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ O خَلَقَ الْاِِنْسَانَ O عَلَّمَہُ الْبَیَانَ O

ان آیات میں تخلیق انسان سے پہلے علم و تعلیم اور قرآن کا ذکر کیا گیا ہے اگر قرآن کے معنی پر غوروفکر کیا جائے تو وہ ہے ’’بہت زیادہ پڑھا جانے والا‘‘۔ گویا علم، قول اور سخن کا ذکر تخلیق انسان سے پہلے اور مقدم ہے۔وہی انسان جسے بعد میں بیان سکھایا گیا ہے۔

اول مخلوق کے بارے میں بہت سی احادیث ہیں۔ کسی میں ’’نور‘‘ کو اوّل مخلوق فرمایا گیا اور کسی میں عقل کو، کسی میں قلم کو پہلی خلقت کہا گیا ہے اور کسی میں عزت کو، کسی میں اس پانی کو جس پر عرش الٰہی موجود ہے اور کسی میں فرمایا گیا ہے ’’اول ماخلق اللہ نوری‘‘ یعنی اللہ نے سب سے پہلے میرا نور خلق کیا۔ ان میں سے کوئی بھی چیز مادی نہیں ہے۔ یہ سب خلقت اول کے مختلف نام اور مختلف پہلو ہیں اور خلقت اول کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان اسماء سے راہنمائی ملتی ہے۔ علمائے حکمت الٰہی نے اس سلسلے میں تفصیلی گفتگوکی ہے۔ حروف مقطعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا نہیں، اس سلسلے میں تو گفتگو ہے اور جاری رہے گی لیکن عالم مادی سے پہلے عالم فکر و عقل اور عالم نور کی خلقت کے نظریے کی تائید مذکورہ احادیث سے ضرور ہوتی ہے۔

چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اول ما خلق اللہ نوری‘‘(۱۲)

یہ بھی فرمایا: ’’اول ماخلق اللہ النور‘‘(۱۳)

ایک اور روایت میں آنحضرتؐ سے یہ بھی منقول ہے: ’’اول ما خلق اللہ العقل‘‘(۱۴)

ابن عباس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’اول ما خلق اللہ القلم‘‘(۱۵)

۵۔ حروف مقطعہ پیغمبر اکرمؐ کو متوجہ کرنے کے لیے ہیں

حروف مقطعہ پیغمبر اکرمؐ کو متوجہ کرنے کے لیے ہیں۔ یہ حروف خبر دینے کے لیے ایک گھنٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے سورہ زخرف کی تفسیر میں استاد مطہری کہتے ہیں:

اول کہ می گوید(حم) این بہ منزلہ زنگ اخبار است بہ قلب پیامبر اکرم، مثل یک نوع حالت ھشدار و بیدارباش۔تشبیہ کردیم، گفتیم مثل کسی کہ پشت دستگاہ تلگراف نشستہ در حالی کہ بہ خود مشغول است و توجھی بہ اطراف ندارد و یک مرتبہ می بیند دستگاہ از آن پشت صدا کرد۔ یک الفبایی را گفت۔ او تازہ متوجہ می شود کہ باید خبر بگیرد۔ اول کہ می گوید(حم) این دو حرف، حالت اخبار واعلام است بہ پیغمبر و ھشدار دادن بہ قلب پیمبر و متمرکز کردن او برای گرفتن وحی۔

یہ جو شروع میں کہا گیا ہے ’’حم‘‘ یہ رسول اکرمؐ کے دل پر خبر دینے کے لیے ایک گھنٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم اسے ایک طرح کی آگاہی دینے اور بیدار باش کی علامت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ ایسے ہے جیسے ٹیلی گراف کی مشین کے اس طرف کوئی بیٹھا ہے جو خود اپنے کام میں مصروف ہے اور اردگرد کی طرف اس کی توجہ نہیں ہے۔ اچانک وہ دیکھتا ہے کہ وہ مشین بول پڑتی ہے اور کچھ الف با کی آواز اس سے آتی ہے اور وہ اچانک متوجہ ہوتا ہے کہ کوئی خبر آرہی ہے اور اسے یہ خبر حاصل کرنا ہے۔ یہ جو شروع میں ’’حم‘‘کہا گیا ہے یہ دو حرف ایک طرح سے رسول اللہؐ کو خبر دینے اورقلب پیغمبرؐ کے لیے اعلان کی حالت ہے اور وحی حاصل کرنے کے لیے آپ ؐ کو متمرکز کرنے کے لیے یہ حروف اداکیے جارہے ہیں۔ (۱۶)

۶۔یہ حروف تحدی کی حیثیت رکھتے ہیں

یہ حروف تحدی کی حیثیت رکھتے ہیں اس معنی میں ان حروف سے مراد حروف ابجد ہی ہیں البتہ اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کا ذکر کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ قرآن انہی حروف سے ترتیب پایا ہے۔

یہ وہی حروف ہیں جو عربی زبان بولنے والے تمام لوگ استعمال کرتے ہیں جس زمانے میں قرآن حکیم نازل ہوا اس زمانے کے عربوں کو اپنے زبان دانوں پر افتخار تھا۔ قرآن حکیم نے انہی حروف کو استعمال کرکے اس میں گہرے مطالب اور معارف نازل فرمائے۔ انہی حروف کی ساختہ و پرداختہ کتا ب کو معجزے کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان حروف میں گہرے اور عظیم مطالب سمو کر نازل کیے گئے۔ ایک ایسی کتاب ان حروف سے وجود پذیر ہوئی کہ جس کی آج تک کوئی مثل و نظیر نہیں لاسکے۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی تفسیر نمونہ میں اس سلسلے میں کہتے ہیں:

باوجودیکہ قرآن انہی حروف الف با اور عام کلمات سے مرکب ہے لیکن یہ ایسے موزوں کلمات اور عظیم معانی کا حامل ہے جو انسان کے دل و جان کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں، انسان کی روح تحیر اور تحسین کی کیفیات سے دوچار ہو جاتی ہے اور ان کے مطالعے سے افکار و عقول ان کی تعظیم و تکریم پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ قرآن کی جملہ بندی مرتب ہے، اس کے کلمات بلند ترین بنیادوں کے حامل ہیں اور اس میں بلندمعانی زیباترین الفاظ کے قالب میں اسی طرح سے ڈھلے ہوئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔(۱۷)

بعض احادیث میں بھی حروف مقطعہ کے وجود سے قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ معانی الاخبار میں امام حسن عسکریؑ سے روایت کیا گیا ہے،آپ نے فرمایا:

کذبت قریش والیھود بالقرآن، وقالوا ھذا سحر مبین تقولہ، فقال اللہ: الم ذلک الکتاب أی یا محمد، ھذا الکتاب الذی أنزلتہ علیک، ھوالحروف المقطعۃ، التی منھا: ألف، لام، میم، و ھو بلغتکم و حروف ھجائکم، فأتوا بمثلہ ان کنتم صادقین، واستعینوا علی ذلک بسائر شھدائکم۔(۱۸)

قریش اور یہود نے قرآن کی تکذیب کی اور انھوں نے آنحضرت سے کہا کہ جو آپ کہتے ہیں کھلا جادو ہے۔ پس اللہ نے فرمایا اآمآ O ذٰلِکَ الْکِتٰبُ یعنی اے محمد یہ جو کتاب میں نے آپ پر نازل کی ہے (اس کے بارے میں ان سے ہماری طرف سے کہیے کہ) یہ حروف مقطعہ(پر مبنی) ہے جن میں سے الف لام میم بھی ہیں ۔ان کا میں نے تم پر ابلاغ کیا ہے اور یہ تمھارے حروف کے ہجاء ہیں۔ پس اگر تم سچے ہو تو اس کی مثل لا کر دکھاؤ اور اپنے تمام دیگر گواہوں سے بھی مدد لے لو۔

۷۔            صحابہؓ کو ان حروف کا معنی معلوم تھا

یہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نظریہ ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

یہ حروف مقطعات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حروف مقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اسلوب سے کام لیتے تھے۔ چنانچہ اب بھی کلام جاہلیت کے جو نمونے محفوظ ہیں ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بے معنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سورتوں کی ابتدا میں بولتے ہو اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے معنی پوچھے ہوں۔ بعد میںیہ اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسرین کے لیے ان کے معانی متعین کرنا مشکل ہو گیا لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حروف کا مفہوم سمجھنے پر قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کا انحصار ہے اور نہ یہ بات ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے معنی نہ جانے گا تو اس کے راہ راست پانے میں کوئی نقص رہ جائے گا۔ لہٰذا ایک عام ناظر کے لیے کچھ ضروری نہیں ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں سرگرداں ہو۔(۱۹)

اس نظریے پر تنقید کرتے ہوئے مولانا سلیم اللہ خان لکھتے ہیں:

خلفائے راشدین وجمہور صحابہ کرامؓ تو پوری زندگی یہی کہتے رہے کہ حروف مقطعات متشابہات کے قبیل سے ہیں، ان کے معنی مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن مودودی صاحب فرماتے ہیں: ’’یہ مقطعات کوئی چیستان نہ تھے، جن کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو۔‘‘

جن صحابہ کرامؓ سے بعض معانی منقول ہیں انھوں نے یہ معانی ایک فائدے اور نکتے کی حیثیت سے بیان کیے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے یہ دعوی منقول نہیں ہے کہ زبان نبوت سے جب فلاں حروف مقطعات جاری ہوئے تھے تو ہم نے اس کے یہ معنی سمجھے تھے لیکن مودودی صاحب فرماتے ہیں’’سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔‘‘

اگر مودودی صاحب کا موقف درست تسلیم کر لیا جائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امانت و دیانت پر حرف آئے گا کہ حروف مقطعات کے معانی و مراد کا علم ہونے کے باوجود امت کو اس خزانے سے محروم رکھ کر خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔(معاذ اللہ) اور ان کی دیانت بھی اس وجہ سے قابل اطمینان نہ رہے گی کہ انھوں نے اسلوب بیان کے متروک ہونے کے بعد علوم نبوت کی حفاظت سے غفلت برتی اور اپنے ذہن و فکر کے تمام گوشوں سے وہ معانی ہی مٹا دیے جو آنحضرتؐ کی تلاوت کے وقت سمجھے تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امانت و دیانت کی ضمانت ہی مشکوک ٹھہری تو علوم شریعت کے محفوظ اور صحیح ہونے کی ضمانت کس طرح دی جاتی ہے؟ لسانیات سے متعلق ادنی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی مودودی صاحب کے موقف کوتسلیم کرنے میں تامل کرے گا، مودودی صاحب کے مضمون کے پیش نظر دیکھا جائے تو ایک طرف اس اسلوب کا چلن اس قدر عام تھا کہ بولنے والے کو اس کے معنی بیان کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی دوسری طرف یہ اس قدر جلدی متروک ہو گیا کہ اپنی فہم سے سمجھنے والے بھی اپنی زندگی کے کسی حصے میں بیان کرنے سے قاصر رہے۔ کسی زبان کا اسلوب اس قدر تیزی سے بدل جاتا ہے؟ اسلوب بدلنے سے معنی بھی کلیۃً معدوم ہو جاتے ہیں؟(۲۰)

ہماری رائے میں مودودی صاحب کا نقطۂ نظرتاریخ و تفسیر اور حدیث کے ذریعے پہنچنے والی معلومات سے میل نہیں کھاتا لیکن اس سلسلے میں مولانا سلیم اللہ خان نے جس انداز سے تبصرہ کیا ہے وہ مناسب معلوم نہیں ہوتا اس مسئلے میں مودودی صاحب کے نقطۂ نظر کو ان کے عدم التفات پر محمول کرنا چاہیے تھا۔

تاہم اگر تفسیر اور حدیث نیز تاریخ کے قدیم لٹریچر کی بنیاد پر مودودی صاحب کی رائے ناقابل قبول ہے تو پھر مولانا حمید الدین فراہی اور ان کے پیروکاروں کے نقطۂ نظر کے بارے میں بھی بحیثیت مجموعی یہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ (ان شاء اللہ)

حوالہ جات

۱۔            علامہ آلوسی کی اصل عبارت ہم یہاں درج کرتے ہیں:

ومن الظرف أن بعض الشبعۃ استأنس بھذہ الحروف لخلافۃ الأمیر علی کرم اللہ تعالی وجھہ فانہ اذا حذف منھا المکرر یبقی مایمکن أن یخرج منہ ’’صراط علی حق نمسکہ‘‘ ولک أیھا السنیی أن تستأنس بھا لما أنت علیہ فانہ بعد الحذف یبقی ما یمکن أن یخرج منہ ما یکون خطابا للشیعی وتذکیرا لہ بما ورد فی حق الأصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین و ھو ’’طرق سمعک النصیحۃ‘‘ وھذا مثل ما ذکروہ حرفا بحرف وان شئت قلت ’’صح طریقک مع السنۃ‘‘ ۔۔۔

آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم،تصحیح:علی عباد البری العطیہ(بیروت ،دارلکتب العلمیہ،۱۹۹۴م) ج۱،ص۱۰۶و۱۰۷

۲۔            جوادی آملی، تسنیم ،تفسیر قرآن کریم(قم ،مرکز نشر اسراء،۱۳۷۸ھ ش،ط اول)ج۲، ص ۶۷و۶۸

۳۔            آل عمران:۷

۴۔            طبرسی،فضل بن حسن:مجمع البیان فی تفسیر القرآن(بیروت،دارالمعرفۃ،۱۹۸۶ء) ج۱،ص۱۱۲

۵۔            طبرسی،فضل بن حسن:مجمع البیان فی تفسیر القرآن(بیروت،دارالمعرفۃ،۱۹۸۶ء) ج۱،ص۱۱۲

۶۔            سرسید احمد خان، تفسیر القرآن مع تحریر فی اصول التفسیر، (لاہور، دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۴)حصہ، اول، ص ۱۴تا۱۶

۷۔            طوسی،ابی جعفر محمد بن الحسن:التبیان فی تفسیرالقرآن(بیروت،مکتب الاعلام الاسلامی،ط اول، ۱۴۰۹ھ ق) ج۱،ص ۴۸و۴۹

۸۔            طوسی،ابی جعفر محمد بن الحسن:التبیان فی تفسیرالقرآن(بیروت،مکتب الاعلام الاسلامی،ط اول، ۱۴۰۹ھ ق) ج۱،ص۴۷

۹۔            جوادی آملی، تسنیم ،تفسیر قرآن کریم(قم ،مرکز نشر اسراء،۱۳۷۸ھ ش،ط اول)ج۲، ص ۷۳

۱۰۔          یٰسٓ:۸۲

۱۱۔          مطہری، مرتضیٰ، آشنای باقرآن، انتشارات صدرا، تہران ۱۳۷۰ش، ج ۱و۲، ص ۱۶۴

۱۲۔          بحارالانوار جلد۹،ص۳۲۱،روایت۱۴،باب ۲

۱۳           بحارالانوار جلد۹،ص۳۲۱،روایت۱۴،باب ۲

۱۴۔          الکافی،ج۱،ص۱۱۰، ح ۴

۱۵۔          توحید الصدوق،ص۱۶۴

۱۶۔          مطہری، مرتضیٰ، آشنای باقرآن، انتشارات صدرا، تہران ۱۳۷۰ش، ج ۶، ص ۱۶۰

۱۷۔          ناصر مکارم شیرازی،ترجمہ مولانا سید صفدر حسین نجفی، تفسیر نمونہ،مصباح القرآن ٹرسٹ،۲۰۱۱ء، ج۱،ص۷۹

۱۸۔          شیخ صدوق:معانی الاخبار(لبنان،بیروت دارالمعرفہ،۱۳۹۹ھ) حدیث۴، ص۲۴

۱۹۔          مودودی، ابوالاعلیٰ ،تفہیم القرآن(لاہور،ادارہ ترجمان القرآن)ج۱،ص۴۹

۲۰۔          http://www.farooqia.com/ur/lib/1433/05/p5.php