نکاح مسیار

Bookmark and Share

تحریر: سید مزمل حسین نقویAgha.Muzamil.logo.jpg

اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت اور فطرت میں کچھ خصوصیات رکھی ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ انہی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت جنسی میلان ہے۔ یہ بہت قوی ہوتی ہے۔ اس پر آسانی سے قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ قرآن کریم میں حضرت یوسف﴿ع﴾ کا یہ جملہ منقول ہے:

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُِّ الَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَیْہِ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ اَصْبُ اِلَیْھِنَّ وَ اَکُنْ مِّنَ الْجٰھِلِیْنَO فَاسْتَجَابَ لَہ رَبُّہ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ اِنَّہ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (۱)

 (یوسف) نے کہا پروردگار! یہ قیدمجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو ان کے مکر کو مجھ سے دور نہ کرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو سکتا ہوں اورمیں بھی جاہلوں میں سے ہو سکتا ہوں۔ پس اس کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے مکرکو پھیر دیا یقیناً وہ سننے والا اورجاننے والا ہے۔

مرد اور عورت دونوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش ہوتی ہے۔ ان کا ایک دوسرے کے بغیر رہنا انتہائی مشکل ہے۔ اسی لیے خدا نے آدم﴿ع﴾ کے ساتھ حوا کو بھی خلق کیا اور کہا:

اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِءْتُمَا(۲)

اے آدم! اب تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنت میں ساکن ہو جاؤ اور جہاں چاہو آرام سے کھاؤ۔

گویا جنت میں بھی ایک دوسرے کے بغیر سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا یہ تعلق ناگزیر ہے۔ اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ البتہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے سماجی برائیاں پیدا نہ ہوں۔ معاشرتی نقصانات نہ ہوں۔ برائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔شریعت نے اس کے لیے ایک راستہ رکھا ہے جسے نکاح کہتے ہیں۔ اب اس کی کئی صورتیں ہیں۔ نکاح دائمی جو کہ عام طور پر رائج ہے۔ نکاح متعہ جس کے شیعہ قائل ہیں۔ آج کل ایک نئی صورت سامنے آئی ہے جسے نکاح مسیار کہتے ہیں۔ لفظ مسیار سیر سے نکلا ہے۔ جس کے معانی ’’جانا‘‘ کے ہیں۔ چونکہ نکاح کرنے کے بعد عام طور پر عورت مرد کے گھر آجاتی ہے جبکہ نکاح مسیار میں عورت کے بجائے مرد اس کے گھر آتا جاتا ہے اسی لیے اسے نکاح مسیار کہتے ہیں۔

نکاح کی یہ صورت آج کل خلیجی ممالک کے علاوہ افغانستان میں بھی رائج ہے۔ عربی میں اسے نکاح مسیار کے علاوہ نکاح المرور اور عدم مکث طویل بھی کہا جاتا ہے۔ مرور کے معانی تو وہی سیر والے ہیں۔ البتہ عدم مکث طویل اس لیے کہتے ہیں چونکہ شوہر بیوی کے پاس زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔

ڈاکٹریوسف قرضاوی اس کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ھوالزواج الذی یذھب فیہ الرجل الی بیت المرأۃ ولا تنتقل المرأۃ الی بیت الرجل و فی الغالب تکون ھذہ الزوجۃ ثانیۃ وعندہ زوجۃ اخری ھی التی تکون فی بیتہ وینفق علیھا(۳)

یہ وہ نکاح ہے جس میں مرد عورت کے گھر جاتا ہے۔ عورت مرد کے گھر منتقل نہیں ہوتی۔ عام طور پر یہ مرد کی دوسری شادی ہوتی ہے۔ اس کی ایک اور بیوی ہوتی ہے جو اس کے گھر میں ہوتی ہے اور وہ اس کا نفقہ بھی ادا کرتا ہے۔

ھبۃ الکبار العلماء السعودیۃ کے رکن ابن منیع کہتے ہیں:

انہ زواج مستکمل لجمیع ارکانہ و شروطہ الا ان الزوجین قد ارتضیا واتفقا علی ان لا یکون للزوجۃ حق المبیت او القسمۃ وانما الامر راجع للزوج متی رغب فی زیارۃ زوجتہ فی ای ساعۃ من ساعات الیوم واللیلۃ فلہ ذلک۔(۴)

یہ بھی ایک مکمل عقد ہے جو اپنے تمام ارکان اور شروط پر مشتمل ہوتا ہے۔ البتہ میاں بیوی دونوں طے کر لیتے ہیں کہ زوجہ کے لیے حق مبیت نہیں ہوتا۔ شوہر کی مرضی ہوتی ہے کہ دن ہو یا رات جب چاہے اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے۔

حق مبیت یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی چند بیویاں ہوں تو برابر کی سطح پر وہ ان کے درمیان راتیں تقسیم کرتا ہے اور اسی حساب سے ان کے پاس آتا ہے۔

دمشق یونیورسٹی کے پروفیسر اور مجمع فقہ اسلامی کے رکن وھبہ زحیلی اس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ھو الزواج الذی یتم بین رجل وامرأۃ بایجاب و قبول و شھادۃ شھود و حضور ولی علی ان تتنازل المراۃ حقوقھا المادیۃ من مسکن و نفقۃ لھا ولا لاولادھا ان ولدت وعن بعض حقوقھا مثل قسم فی المبیت بینھا و بین ضرتھا و تکفی بان یتردد علیھا الرجل احیاناً(۵)

یہ ایسا عقد ہے جو عورت اور مرد کے درمیان ایجاب و قبول اور گواہوں اور ولی کی موجودگی کے ساتھ منعقد ہوتا ہے، اس بنیاد پرکہ عورت اپنے بعض حقوق مثلاً رہائش اپنے اور اپنی اولاد(اگر ہو جائے) کے نان و نفقہ اور شب بسری وغیرہ سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مرد جب چاہے اس کے پاس آسکتا ہے۔

نکاح مسیار کی ابتدا

یہ نکاح زیادہ پرانا نہیں ہے۔ موجودہ شکل و صورت میں پہلی دفعہ سعودی عرب کے قصبہ قصیم میں فہد غنیم نامی شخص نے شیخ عثیمین کے فتوی سے انجام دیا۔ شیخ عثیمین نے اسے جائز قرار دیا تھا۔(۶)

اس وقت یہ نکاح متحدہ امارات، لبنان، مصر، افغانستان، سوڈان اور شام میں رائج ہو چکا ہے۔

شیعہ فقہ میں اس قسم کے نکاح کی مثال نہیں ملتی۔ البتہ غیر شیعہ فقہ میں نکاح النھاریات واللیلیات جیسے نکاح موجود ہیں جو نکاح مسیار سے ملتے جلتے ہیں اگرچہ ابن قدامہ نے اسے ناجائز قرار دیاہے۔ وہ لکھتے ہیں:

نقل عنہ المروذی فی النھاریات واللیلیات: لیس ھذا من نکاح اھل الاسلام وممن کرہ تزویج النھاریات حماد بن ابی سلیمان و ابن شبرمۃ(۷)

مروذی نے نہاریات ولیلیات میں سے احمد بن حنبل سے اسے نقل کیا ہے۔ یہ نکاح اسلام میں نہیں ہے۔ حماد بن ابی سلیمان اور ابن شبرمہ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔

نکاح مسیار کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ اس کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاسکتی ہے۔

۱۔            بہت سے لوگ تعلیم کے حصول یا تجارت وغیرہ کی وجہ سے بیرون سفر پر جاتے ہیں اور ان کے سفر لمبے ہو جاتے ہیں۔ وہاں وہ جنسی محرومیت کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بیویوں کو ساتھ نہیں لے جاسکتے ہیں۔

۲۔              بعض افراد ایسے ہیں کہ جن کی بیویاں مختلف بیماریوں یا مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں اور اس طرح وہ اپنے شوہر کی جنسی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتیں۔

۳۔                بہت سے فوجی ایسے ہیں جو بارڈر کی حفاظت کے لیے یا کسی اور وجہ سے لمبی ڈیوٹی پر اپنے گھروں سے دور چلے جاتے ہیں اور وہاں جنسی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

۴۔                بعض اوقات حمل کے دوران یا بعض دیگر وجوہات کی بنا پر انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے بیوی سے جنسی روابط ترک کردے۔

۵۔               بعض اوقات خواتین کے پاس زندگی گزارنے کے تمام وسائل ہوتے ہیں وہ یا ملازمت پیشہ ہوتی ہیں یا تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہیں، انھیں جنسی خواہشات کی تکمیل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ ایسے میں زوج المسیار بہترین شرعی حل ہے۔

یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ضرورت متعہ کے سلسلے میں بھی کم و بیش یہی اسباب پیش کیے جاتے ہیں۔ حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ نکاح مسیار کو جائز سمجھنے والے متعہ کو زنا سے کیسے تعبیر کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ عملاً متعہ ہی کررہے ہوتے ہیں۔ صرف اس کا نام نہیں لینا چاہتے۔ نکاح مسیار کی حرمت کے قائلین نے اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ یہ نکاح متعہ کی مثل ہے ان کے نزدیک چونکہ متعہ حرام ہے لہٰذا یہ بھی حرام ہے۔ بعض ناآگاہ افراد نکاح متعہ کو انتہائی مسخ شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اسے زنا، فحشاء اور جنسی آزادی کو قانونی شکل دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کا تعلق اگر عوام الناس سے ہوتا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن افسوس یہ ہے کہ بعض علماء اور خود کو شیخ الحدیث کہنے والے بھی اس قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ یقیناً شدید مذہبی تعصب انھیں اپنے مقابل کی کتب کا مطالعہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہاں ہم نکاح متعہ کی شرائط اور نکاح دائم کے ساتھ فرق واضح الفاظ میں بیان کریں گے تاکہ مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔

۱۔            مرد اور عورت کی باہمی رضا مندی۔ اگر کسی ایک طرف کو مجبور کیا گیا ہو تو نکاح متعہ منعقد نہیں ہوگا۔

۲۔            عقد کا صیغہ لفظ نکاح،تزویج یا متعہ کے ذریعہ جاری ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی اور لفظ کافی نہیں ہے۔

۳۔            اگر لڑکی باکرہ ہو تو ولی کی اجازت شرط ہے۔ اگر باکرہ نہ ہو تو پھر ضروری نہیں ہے۔

۴۔            عقد کی مدت اور حق مہر واضح طور پر معین کیا جاتا ہے۔

۵۔            مدت کا اختتام طلاق کی مثل ہے۔ اگر مباشرت ہوئی ہے تو عدت گزارنی پڑے گی۔

۶۔            عقد متعہ سے پیدا ہونے والے بچے اولاد شمار ہوتے ہیں۔ ان کے وہی احکام ہیں جو نکاح دائم سے پیدا ہونے والے بچوں کے ہیں۔ یہ بچے ماں باپ بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں سے وراثت پائیں گے۔ ان بچوں اور دائمی شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ بچے ماں باپ کی کفالت میں رہیں گے۔ ان کے تمام اخراجات نکاح دائمی سے ہونے والے بچوں کی مثل ہیں۔

۷۔            نکاح دائمی اور متعہ میں بنیادی فرق یہ ہیں:

الف: نکاح دائمی میں جدائی طلاق سے ہوتی ہے جبکہ متعہ میں مدت کے اختتام سے

ب: عقد متعہ میں بیوی نفقہ اور وراثت کی حقدار نہیں ہوتی۔ اسی طرح شوہر بھی بیوی کی وراثت کا حقدار نہیں ہوتا جبکہ نکاح دائمی میں دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔

ج: اگر شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہو تو بیوی اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاسکتی ہے جبکہ نکاح دائمی میں ایسا نہیں ہے۔

د: متعہ میں مرد پر بیوی سے ہم بستری واجب نہیں ہے۔

مذکورہ بالا احکام پر غور کرنے سے بہت سے سوالات، غیر منصفانہ قضاوت، شبہات اور تہمتوں کا جواب روشن ہوجاتا ہے۔ ان امور پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ متعہ کا زنا اور عفت کے منافی دیگر اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ ان دونوں کا آپس میں قیاس کرتے ہیں وہ یقیناً ناآگاہ ہیں اور انھیں نکاح متعہ کی حقیقت اور شرائط کے بارے میں بالکل معلومات نہیں ہیں۔ یہاں پر ہم نکاح مسیار اور متعہ کے درمیان جو مماثلت اور افتراق ہے اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

مماثلت

۱۔ حقیقت میں دونوں قسم کے نکاح کا اصلی ہدف جائز شریعی طریقہ سے لذت کا حصول اور جنسی خواہشات کی برآوری ہے نہ کہ خاندان کی تشکیل

۲۔ ایجاب و قبول، حق مہر اور اذن ولی (باکرہ ہونے کی صورت میں) شرط ہیں۔

۳۔ دونوں میں نفقہ اور شب بسری جیسے حقوق مرد پر واجب نہیں ہیں۔

افتراق

۱۔ نکاح مسیار میں مدت معین نہیں ہوتی جبکہ متعہ میں مدت معین ہوتی ہے۔

۲۔ نکاح مسیار طلاق یا فسخ کے ذریعے ختم ہوتا ہے جبکہ متعہ مدت کے پورا ہونے کے بعد ختم ہوتا ہے۔

۳۔ نکاح مسیار میں عدت تین طہر ہے جبکہ متعہ میں دو۔

۴۔ متعہ میں تعداد کی کوئی قید نہیں ہے جبکہ نکاح مسیار ایک وقت میں چار خواتین سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

قطر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قرہ داغی نے نکاح مسیار پر درج ذیل اعتراض کیے ہیں:

۱۔ نکاح میں اصل ہدف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ روحانی تسکین، بقاء نسل انسانی اور خاندان کی تشکیل اصل ہدف ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِہ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (۸)

اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے تاکہ تمھیں سکون حاصل ہو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی۔ یقیناً اس میں صاحبانِ فکرکے لیے نشانیاں ہیں۔

جبکہ نکاح مسیار میں یہ تینوں اہداف مدنظر نہیں ہوتے صرف جنسی تشکیل مقصود ہوتی ہے۔

یہ اعتراض ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر اسے حرام قرار دیا جاسکے کیونکہ صرف جنسی لذت کے حصول کے لیے بھی نکاح کیا جاسکتا ہے جیسا کہ رسول خدا﴿ص﴾ فرماتے ہیں:

یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء(۹)

اے جوانو جو تم میں عورت کو سنبھالنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ نکاح کرلیں کیونکہ نکاح آنکھوں کو جھکانے اور شرمگاہ کو بچانے کا باعث بنتا ہے اور جو نکاح کی قدرت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھ لے کیونکہ روزہ جنسی خواہش کو کم کر دیتا ہے۔

یہ حدیث اس وقت رسول خدا﴿ص﴾ نے بیان فرمائی تھی جب صحابہ نے اپنی جنسی خواہشات کی شدت کے متعلق عرض کیا۔

نسل انسانی اور خاندانی تشکیل مقصد تو ہو سکتی ہے شرط نہیں۔ اگر شرط ہوتی تو عقیم اور بانجھ عورت سے شادی جائز نہ ہوتی۔

۲۔            حق مبیت(بیوی کا شب بسری کا حق) اور نفقہ عقد کی بنیادی شروط میں سے ہیں۔ جب یہ دونوں نہیں ہیں تو عقد بھی نہیں ہے کیونکہ شرط کے ختم ہونے سے مشروط ختم ہو جاتا ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر شوہر الغاء حق مبیت کی شرط لگائے تو عقد باطل ہے۔

جواب: حق مبیت اور نفقہ نہ ہی ارکان عقد میں سے ہیں اور نہ ہی شروط میں سے۔ ارکان عقد یہ ہیں:

ایجاب و قبول، شہود (گواہ)، حق مہر، رضایت، اذن ولی(باکرہ ہونے کی صورت میں) اور یہ سب نکاح مسیار میں موجود ہیں۔

حق مبیت اور نفقہ حقوق زوجہ میں سے ہیں اور انسان کو اپنا حق معاف کر دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہاں زوجہ خود اپنا حق معاف کررہی ہے۔

۳۔            یہ زواج السر( پوشیدہ شادی) ہے جو کہ مالکی فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔(۱۰)

جواب: گواہوں کا ہونا ادنی الاعلان ہے یعنی اعلان کی کمتر حد ہے۔ پھر زواج السر صرف مالکیوں کا نظریہ ہے سب کا نہیں۔

بہت سے فقہاء نکاح مسیار کے جواز کے قائل ہیں۔جن میں سے شیخ ابن باز، شیخ نصر فرید، مسجد الحرام کے امام شیخ سعود شریم، صالح سدلان، شیخ یوسف قرضاوی، شیخ منصور رفاعی عبید، احمد شلبی، محمود عبد المتجلی خلیفہ اور شیخ ابن عثیمین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

حوالہ جات

۱۔            ۱۲یوسف:۳۳و۳۴

۲۔            ۲بقرہ:۳۵

۳۔            قرضاوی، حول زواج المسیار مجلہ المجتمع الکویتیہ ۲۶،۵، ۱۹۷۷،ص ۳۱

۴۔            الاشقر، اسامہ عمر، مستحداث فقھیۃ فی قضایا الزواج والطلاق،ص ۱۶۳

۵۔            عقدوالزواج المستحدثۃ وحکمھا فی الشریعہ، ص ۸

۶۔            عقدوالزواج المستحدثۃ وحکمھا فی الشریعہ، ص ۲۱

۷۔            ابن قدامہ(۶۲۰ھ)المغنی، بیروت، لبنان، دارالکتاب العربی، ج ۷،ص ۴۵۱

۸۔            ۳۰روم:۲۱

۹۔            بخاری(۲۵۶)، صحیح بخاری، بیروت، لبنان دارالفکر، طبع ۱۹۸۱،ج ۶،ص ۱۱۷

۱۰۔          امام مالک(۱۷۹) کتاب الموطا بیروت، لبنان، طبع ۱۹۸۵، ج۲،ص ۵۳۵

ہم سے رابطہ

ایڈریس: البصیره 40، بیلا روڈ، G/10-1، اسلام آباد

ای میل: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

فون: 2350969-051