بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام جو رحمن ورحیم ہے

راہ حل یقیناً جاری سیاسی نظام کی ازسرنو تشکیل ہے، جو ایک خاص وقت، وسائل اور کاوش کی متقاضی ہے۔ اس دوران میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ رہنا دانشمندی نہیں۔ انسانی زندگی میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں وہ اپنی خواہش کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر رہا ہوتا، لیکن اس کے باوجود کوشش کو بھی ترک نہیں کرتا۔ آپ اپنی روزمرہ زندگی کو ہی لے لیجیے، پاکستان کے اکثر شہریوں کے ماہانہ اخراجات ان کی آمدن سے زیادہ ہیں، کیا اس پریشانی میں لوگ گھر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم کوشش کے باوجود اخراجات پورے نہیں کر پا رہے، اس لیے یہ کام ہی چھوڑ دو۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا، زندگی کا پہیہ بہر صورت رواں رہتا ہے کیونکہ خدا نے انسان کے ذمہ کوشش رکھی ہے، نتائج نہیں۔

خواب و خیال کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں واپس آئے بغیر امت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور اس کے لئے عصر حاضر میں ایک معیار ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جس تحریک کی سرپرستی کر رہے ہوں وہ کسی صورت بھی برحق نہیں ہوسکتی اور وہ تحریک جو اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑی ہو حق کو اسی کی صفوں میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کو تاریخ کی ناروا گرفت سے آزاد کرکے دین کی ثابت اور غیر متغیر اقدار پر پھر سے اکٹھا کرنا چاہیے۔ اسلام کا نام نہ فقط قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھنے والوں کے لیے خوشگوار ہونا چاہیے بلکہ دنیا کو امن و سلامتی، ترقی و کمال اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کی تمنا رکھنے والے سب انسانوں کے لیے خوشگوار اور جاذب ہونا چاہیے۔ وطن پرستی، نسل پرستی، مسلک پرستی، شخصیت پرستی اور دیگر پرستشوں سے نجات حقیقی توحید پرستی ہی میں مضمر ہے۔ توحید پرستی۔۔۔ انسانی مساوات و وحدت جس کا معاشرتی مظہر ہے۔
تحریر: سید اسد عباس تقوی
ہماری دعا ہے کہ امریکہ کی عظیم ریاست جن اخلاقی اصولوں پر قائم ہوئی تھی انہی کی جانب لوٹ جائے۔ بحیثیت انسان ہمیں اس وفاق کے منتشر ہونے، امریکیوں کے بے حال اور در بدر ہونے پر کوئی خوشی نہیں، تاہم اگر آپ اس وحشی درندے یعنی امریکی سیاسی نظام کو بیرونی دنیا کی نظر سے دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے جتنا ظلم اپنے شہریوں پر کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ ظلم دوسری اقوام پر کرچکا ہے۔ ہیروشیما، ناگاساکی، ویتنام، عراق، افغانستان تو وہ نام ہیں جو اس درندے نے نگلے، کئی ایسی اقوام بھی ہیں جو ابھی اس درندے کے منہ میں ہیں اور وہ ان کی جگالی کر رہا ہے۔